Baba Bullay Shah با با بلھے شاہ

برصغیر کے معروف صوفی شاعر بابا بلّھے شاہ کا سالانہ ہ عرس آج سے قصور میں شروع ہوگیا ہے۔
عبداللہ شاہ المعروف بابا بلھے شاہ سولہ سو اسی میں اوچ شریف میں پیدا ہوئے۔چھوٹی عمر میں بلھے شاہ کے والد کا انتقال ہوگیا تو وہ قصور منتقل ہوگئے۔ ابتدائی تعلیم وہی مکمل کی اور شاہ عنایت قادری کے مرید ہوئے۔
بلھے شاہ کے دور میں پنجاب میں سیاسی عدم استحکام تھا اور ہر طرف افراتفری اور نفسا نفسی تھی جس نے بلھے شاہ کے سچے جذبوں کو ا±جاگر کیا اور وہ ایک بے مثال شاعر کے طور پر ا±بھرے۔ ا±ن کی پذیرائی ہر دور میں ہوتی رہی ہے۔ صوبہ پنجاب کے لوک فن کار دو صدیوں سے ا±ن کا کلام گا رہے ہیں۔
بلھے شاہ مغلیہ سلطنت کے عالمگیری عہد کی روح کے خلاف رد عمل کانمایاں ترین مظہر تھے۔ ان کا تعلق صوفیاءکے قادریہ مکتبہ فکر سے تھا۔ بلھے شاہ شاہ عنایت کے مرید تھے۔
اپنی شاعری میں وہ مذہبی ضابطوں پر ہی تنقید نہیں کرتے بلکہ ترکِ دنیا کی مذمت بھی کرتے ہیں اور محض علم کے جمع کر نے کو وبالِ جان قرار دیتے ہیں۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ چونکہ لاقانونیت، خانہ جنگی، انتشار اور افغان مہم جوﺅں کی وحشیانہ مہموں میں بسر ہوا تھا، اس لئے اس کا گہرا اثر ان کے افکار پر بھی پڑا۔ ان کی شاعری میں صلح کل، انسان دوستی، اور عالم گیر محبت کا جود رس ملتا ہے ،وہ اسی معروضی صورت حال کے خلاف رد عمل ہے۔
بلھے شاہ کا انتقال 1757ءمیں قصور میں ہوا اور یہیں دفن ہوئے۔ان کے مزار پر آج تک عقیدت مند ہر سال ان کی صوفیانہ شاعری گا کر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *