Azad Kashmir آزاد کشمیر میں خواتین کی جبری شا دیا ں

آزاد کشمیر سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں لڑکیوں کی جبری شادی کے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں۔ایسے میں جبراً شادی سے انکار کرنے والی خواتین کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں تعلیم کی کمی ،شعور وآگہی کا فقدان اور اسکے علاوہ سب سے اہم وجہ ذات برادری سسٹم بہت مضبوط ہونے کے باعث جبری شادی اور بیشتر اوقات والدین کی مرضی کے خلاف شادی کے واقعات سامنے آتے ہیں ،نبیلہ ارشاد راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میںبحیثیت ایڈووکیٹ خدمات انجام دے رہی ہیں،اُنکا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں پچھلے کچھ سالوں میں جبری شادی کے واقعات سامنے آئے ہیں:
آزاد کشمیر سمیت پاکستان کے بے شمار علاقوں میں تاحال برادری سسٹم بہت مضبوط ہے، شادی بیاہ کے معاملات میں عموماًقریبی رشتے داروں کو فوقیت دی جاتی ہے جبکہ برادر ی سے باہر یا دیگرذات کے لوگوں میں شادی کو ترجیح نہیں دی جاتی ، اس بارے میں نبیلہ ارشاد کا کہنا ہے:
اس حوالے سے کچھ ہی عرصے قبل آزاد کشمیر میں ہونے والا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے نبیلہ ارشادکہتی ہیں :
آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی نبیلہ ارشاد کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں جبری شادی سمیت خواتین کے ساتھ ہونے والے کسی بھی قسم کے ناروا سلوک کے خلاف نہ صرف مقامی آبادی کی جانب سے آواز بلند کی جاتی ہے بلکہ متعلقہ ادارے بھی اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں جو خوش آئند امر ہے:
آزاد کشمیر میں خواتین میں شرح خواندگی باقی علاقوں کی نسبت زیادہ ہے ایسے میں جبری شادی کے واقعات کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ پڑھی لکھی خواتین اپنی زندگی کا اہم ترین فیصلہ اپنی مرضی سے کرنا چاہتی ہیں ایسے میں والدین اور بچوں کے مابین نظریات کے تصادم اور کمیونکیشن گیپ کے باعث مسائل جنم لیتے ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تعلیم کے رجحان میں اضافے کے ساتھ جہاں لوگوں کی سوچ میں وسعت دیکھنے میںآئی ہے وہیں جبری شادی کے واقعات میں نسبتاً کمی بھی واقع ہوئی ہے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *