Asian Games 2010 ایشین گیمز دو ہزار د س

    چین کے شہر گوانگزو میںمنعقد،ایشین گیمز کی تاریخ میں سب سے بڑے 16ویں ایشین گیمز 15روز جاری رہنے کے بعد گزشتہ ہفتے چین کی برتری پر ختم ہوئے۔ میزبان چین نے 199طلائی تمغے جیت کر سونے کی کان بنا ڈالی اور ایک تمغے کی کمی سے گولڈ میڈلز کی ڈبل سنچری مکمل نہ کرسکا۔چین نے 199گولڈ ، 119سلور اور 98برانز میڈلز کے ساتھ مجموعی طور پر 416میڈلز حاصل کیے جو ایشین گیمز میں کسی ملک کی جانب سے لیے جانے والے تمغوںکی سب سے بڑی تعداد ہے۔    ایشین گیمز میں پاکستان کی طرف سے بھی جیتے گئے آٹھ میڈلز کی تعداد چار برس قبل دوحہ گیمز کے مقابلے میں دوگنے سے بھی زائد ہے۔قومی ہاکی ٹیم نے بھی طلائی تمغہ جیت کر پاتال کی حدوں کو چھونے والی پاکستان ہاکی کو پھر سے زندہ کر دیا ہے اور بیس سال بعدکوئی بڑا اعزاز حاصل کرنے میں کا میاب ہوئی۔
ماضی قریب میں پاکستان کی ہر ناکامی کا ملبہ گول کیپر سلمان اکبر پر ڈال دیا جاتا تھا مگر گوانگزو میں سلمان سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔ انہوں نے سیمی فائنل میں جنوبی کوریا کے خلاف پنلٹی سٹروکس روکے اور فائنل میں بھی گول نہیں ہونے دیا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری آصف باجوہ اسے بہت بڑا کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب ہمارا ہدف اولمپک 2012اور ورلڈکپ ہے۔
ایشین گیمز میں خواتین کرکٹ اور ہاکی کے علاوہ پاکستان کو 12برس بعد سکواش کورٹ سے بھی خوش خبری ملی۔ پاکستان اسکواش فیڈریشن کے سیکرٹری عرفان اصغراس کامیابی کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔

پشاور کی شہرہ آفاق خان فیملی کے نئے سپوت عامر اطلس خان نے ٹیم ایونٹ میں اپنے ملک کو طلائی تمغہ جتوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔عامر اطلس پاکستان کے 237 رکنی دستے کے واحد کھلاڑی تھے، جنہوں نے سونے کے ساتھ ایک نقرئی تمغہ بھی اپنے گلے کی زینت بنایا۔اسکواش فیڈریشن کے سیکرٹری عرفان اصغر کا کہنا ہے کہ اسکواش میں نیا ٹیلنٹ سامنے لانے کیلئے قومی لیگ کے منصوبے پر کام کیا جارہا ہے۔
خواتین کرکٹ میں طلائی تمغہ حاصل کرنیوالی ٹیم کی کپتان ثنا میراس کامیابی کوتمام کھلاڑیوں کی مشترکہ محنت کا نتیجہ قرار دیتی ہےں۔انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کی حوصلہ افزائی جاری رہی تو مزید آگے آئیں گے۔پاکستان کو دوسرا چاندی کا تمغہ ووشو کے اعجاز احمد نے دلوایا جبکہ پاکستان کا تیسرا برانز میڈل اسنوکر ٹیبل سے آیا تھا۔کبڈی کے مقابلوں میں ایران اور مردوں کی کرکٹ میں افغانستان کے ہاتھوں سیمی فائنل میں ناقابل یقین شکست بھی پاکستان کو برانز میڈل لینے سے نہ روک سکی۔ کبڈی فیڈریشن کے سیکرٹری محمد سرور ٹیم کی کارکردگی سے زیادہ مطمئن نہیں۔

فٹبال، والی بال، جوڈو، شوٹنگ،ویٹ لفٹنگ،ریسلنگ، سیلنگ اور کراٹے میں پاکستانی ایتھلیٹس کی کاکردگی انتہائی
مایوس کن رہی۔ فٹبال فیڈریشن کے 80 لاکھ پر جانے والی پاکستانی ٹیم ایونٹ میں ایک گول بھی نہ کر سکی،جبکہ پاکستانی باکسرز نے تو امیدوں پر کچھ ایسا پانی پھیرا کہ اب لندن اولمپکس میں ان کی رسائی کسی معرکے سے کم نہ ہوگی۔مجموعی طور پر غیر مستحکم سیاسی اور معاشی ملکی حالات میں پاکستانی دستے کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا جا رہا ہے، جس نے چار برس پہلے 30 واں اور اس بار 45 ممالک کی صف میں 19واں درجہ پایا ہے۔
ایشین گیمز میں میڈلز حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو 30 نومبرکو اسلام آباد میں ایوان وزیراعظم میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے مالا مال کردیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے والی قومی ہاکی ٹیم کے لئے چار کروڑ، اسکواش ٹیم کے لئے دو کروڑ، خواتین کرکٹ ٹیم کے لئے 80لاکھ، کبڈی ٹیم کےلئے 60لاکھ اور اسنوکر ٹیم کےلئے 30 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے تمام کھلاڑیوں کو ملازمت پر مستقل کرنے اور فوری ترقی دینے کا بھی اعلان کیا۔اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی ہاکی ٹیم کیلئے ایک کروڑ روپے، جبکہ وزیرکھیل اعجازحسین جاکھرانی نے پچاس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایشین گیمز سے پاکستان ہاکی، اسکواش اورخواتین کرکٹ میں بہتر سفر کا آغاز ہوگیا ہے۔اب اس کو مزید بہتر بناتے ہوئے دیگر ٹورنامنٹس میں بھی بہترین کارکردگی دکھانا ہوگی، جبکہ دیگر کھیلوں میں بھی حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی، تاکہ پاکستان میں کھیلوں کے مستقبل کو روشن بنایا جاسکے۔
چین کے شہر گوانگزو میںمنعقد،ایشین گیمز کی تاریخ میں سب سے بڑے 16ویں ایشین گیمز 15روز جاری رہنے کے بعد گزشتہ ہفتے چین کی برتری پر ختم ہوئے۔ میزبان چین نے 199طلائی تمغے جیت کر سونے کی کان بنا ڈالی اور ایک تمغے کی کمی سے گولڈ میڈلز کی ڈبل سنچری مکمل نہ کرسکا۔چین نے 199گولڈ ، 119سلور اور 98برانز میڈلز کے ساتھ مجموعی طور پر 416میڈلز حاصل کیے جو ایشین گیمز میں کسی ملک کی جانب سے لیے جانے والے تمغوںکی سب سے بڑی تعداد ہے۔    ایشین گیمز میں پاکستان کی طرف سے بھی جیتے گئے آٹھ میڈلز کی تعداد چار برس قبل دوحہ گیمز کے مقابلے میں دوگنے سے بھی زائد ہے۔قومی ہاکی ٹیم نے بھی طلائی تمغہ جیت کر پاتال کی حدوں کو چھونے والی پاکستان ہاکی کو پھر سے زندہ کر دیا ہے اور بیس سال بعدکوئی بڑا اعزاز حاصل کرنے میں کا میاب ہوئی۔
ماضی قریب میں پاکستان کی ہر ناکامی کا ملبہ گول کیپر سلمان اکبر پر ڈال دیا جاتا تھا مگر گوانگزو میں سلمان سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔ انہوں نے سیمی فائنل میں جنوبی کوریا کے خلاف پنلٹی سٹروکس روکے اور فائنل میں بھی گول نہیں ہونے دیا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری آصف باجوہ اسے بہت بڑا کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب ہمارا ہدف اولمپک 2012اور ورلڈکپ ہے۔
ایشین گیمز میں خواتین کرکٹ اور ہاکی کے علاوہ پاکستان کو 12برس بعد سکواش کورٹ سے بھی خوش خبری ملی۔ پاکستان اسکواش فیڈریشن کے سیکرٹری عرفان اصغراس کامیابی کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔

پشاور کی شہرہ آفاق خان فیملی کے نئے سپوت عامر اطلس خان نے ٹیم ایونٹ میں اپنے ملک کو طلائی تمغہ جتوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔عامر اطلس پاکستان کے 237 رکنی دستے کے واحد کھلاڑی تھے، جنہوں نے سونے کے ساتھ ایک نقرئی تمغہ بھی اپنے گلے کی زینت بنایا۔اسکواش فیڈریشن کے سیکرٹری عرفان اصغر کا کہنا ہے کہ اسکواش میں نیا ٹیلنٹ سامنے لانے کیلئے قومی لیگ کے منصوبے پر کام کیا جارہا ہے۔
خواتین کرکٹ میں طلائی تمغہ حاصل کرنیوالی ٹیم کی کپتان ثنا میراس کامیابی کوتمام کھلاڑیوں کی مشترکہ محنت کا نتیجہ قرار دیتی ہےں۔انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کی حوصلہ افزائی جاری رہی تو مزید آگے آئیں گے۔پاکستان کو دوسرا چاندی کا تمغہ ووشو کے اعجاز احمد نے دلوایا جبکہ پاکستان کا تیسرا برانز میڈل اسنوکر ٹیبل سے آیا تھا۔کبڈی کے مقابلوں میں ایران اور مردوں کی کرکٹ میں افغانستان کے ہاتھوں سیمی فائنل میں ناقابل یقین شکست بھی پاکستان کو برانز میڈل لینے سے نہ روک سکی۔ کبڈی فیڈریشن کے سیکرٹری محمد سرور ٹیم کی کارکردگی سے زیادہ مطمئن نہیں۔

فٹبال، والی بال، جوڈو، شوٹنگ،ویٹ لفٹنگ،ریسلنگ، سیلنگ اور کراٹے میں پاکستانی ایتھلیٹس کی کاکردگی انتہائی
مایوس کن رہی۔ فٹبال فیڈریشن کے 80 لاکھ پر جانے والی پاکستانی ٹیم ایونٹ میں ایک گول بھی نہ کر سکی،جبکہ پاکستانی باکسرز نے تو امیدوں پر کچھ ایسا پانی پھیرا کہ اب لندن اولمپکس میں ان کی رسائی کسی معرکے سے کم نہ ہوگی۔مجموعی طور پر غیر مستحکم سیاسی اور معاشی ملکی حالات میں پاکستانی دستے کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا جا رہا ہے، جس نے چار برس پہلے 30 واں اور اس بار 45 ممالک کی صف میں 19واں درجہ پایا ہے۔
ایشین گیمز میں میڈلز حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو 30 نومبرکو اسلام آباد میں ایوان وزیراعظم میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے مالا مال کردیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے والی قومی ہاکی ٹیم کے لئے چار کروڑ، اسکواش ٹیم کے لئے دو کروڑ، خواتین کرکٹ ٹیم کے لئے 80لاکھ، کبڈی ٹیم کےلئے 60لاکھ اور اسنوکر ٹیم کےلئے 30 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے تمام کھلاڑیوں کو ملازمت پر مستقل کرنے اور فوری ترقی دینے کا بھی اعلان کیا۔اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی ہاکی ٹیم کیلئے ایک کروڑ روپے، جبکہ وزیرکھیل اعجازحسین جاکھرانی نے پچاس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایشین گیمز سے پاکستان ہاکی، اسکواش اورخواتین کرکٹ میں بہتر سفر کا آغاز ہوگیا ہے۔اب اس کو مزید بہتر بناتے ہوئے دیگر ٹورنامنٹس میں بھی بہترین کارکردگی دکھانا ہوگی، جبکہ دیگر کھیلوں میں بھی حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی، تاکہ پاکستان میں کھیلوں کے مستقبل کو روشن بنایا جاسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *