سندھی زبان کے لوک فنکار الن فقیر صوبہ سندھ کے علاقے جام شورو میں 1922ءمیں پیدا ہوئے۔
الن فقیر نے صوفیانہ کلام گاکر ملک گیر شہرت حاصل کی۔ ان کی گائیکی کا ایک انوکھا انداز تھا جو انہیں دوسرے لوک فنکاروں سے منفرد کرتا ہے۔
الن فقیر کی گائیکی نے فلسفیانہ عشق الٰہی کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔انہوں نے روایتی لوک گائیکی کوایک نیا انداز بخشا۔
انھوں نے اپنی زندگی کے بیس سال شاہ صاحب کے مزار پر ان کی شاعری کو پڑھا۔ الن فقیر نے زیادہ تر سندھی زبان میں گلوکاری کی تاہم اردو زبان میں ان کا گایا ہوا ایک گانا تیرے عشق میں جو بھی ڈوب گیا اسے دنیا کی لہروں سے ڈرنا کیا انہیں فن کی دنیا میں امر کرگیا ہے۔
الن فقیر منفرد انداز گلوکاری کے باعث نہ صرف پاکستان میں مشہور ہوئے بلکہ آپ کی گلوکاری نے دنیا کے دیگر ممالک میں رہنے والوں کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیا
انہوں نے اپنی گائیکی کی بدولت کئی ایوارڈ حاصل کئے۔ان میں80 کی دہائی میں ملنے والا صدارتی ایوارڈ سرفہرست ہے۔ان کا انتقال 4 جولائی 2000ءکو ہوا مگروہ آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔