Alla o Uddin’s Death Anniversary – نامور ورسٹائل ادکار علاودین کی برس

گول گپے والا آیا گول گپے لایا جیسے گانے کو اپنی اداکاری سے لافانی بنادینے والے نامور ورسٹائل ایکٹر علاﺅالدین کی پیدائش راولپنڈی میں ہوئی ابتدا ئی تعلیم حا صل کر نے کے بعد وہ بمبئی چلے گئے جہاں1942ءمیں سنجوگ نامی فلم میں اداکاری کرکے اپنے فنی کیرئیر کا آغازکیا، تاہم انہیں اصل شہرت بھارتی فلم میلہ سے ملی، جس میں انھوں نے دلیپ کمار اور نرگس کیساتھ اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان بننے کے بعد انھوں نے لالی وڈ کی پہلی پنجابی فلم پھیرے میں ولن کا کردار ادا کیا جو یادگار بن گیا۔اس کے بعد علاﺅ الدین کی بطور ولن کئی پنجابی فلمیں سپر ہٹ ہوئیں، جن میں پتن، شہری بابو، پاٹے خان اور دلا بھٹی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

تاہم 1957ءمیں اردو فلم آس پاس کی کامیابی کے بعد علاﺅ الدین ایک ایسے فنکار کے روپ میں سامنے آئے جس کے لئے فلموں میں خصوصی کردار تحریر کئے جانے لگے۔جس کی مثال راز، آدمی، بھروسہ، نیند، کوئل، جھومر، سسرال اور بنجارن جیسی یادگار فلموں میں علاﺅ الدین کے غیرروایتی کردار ہیں۔

پنجابی فلم کرتار سنگھ وہ پہلی فلم تھی جس میں علاﺅ الدین نے بطور ہیرو کام کیا، یہ فلم انتہائی کامیاب رہی اور علاﺅ الدین بام عروج پر پہنچ گئے۔

شہنشاہ غزل مہدی حسن کا پہلا سپرہٹ فلمی گیت بھی علاﺅ الدین پر فلمایا گیا تھا،جسکے بول یہ ہیں۔

اسی طرح فلم بدنام میں علاﺅ الدین کا مکالمہ تو پاکستانی فلمی صنعت میں کلاسیک کا درجہ رکھتا ہے۔ جو یہ ہے۔ کہاں سے آئے ہیں یہ جھمکے، کیا کہہ رہے ہیں یہ جھمکے۔

انہوں نے اپنی اعلیٰ پرفارمینس سے کئی کرداروں کو امر کر دیا ، تیس مار خان ،ہڈ حرام ،پھنے خان ،ان پڑھ ،نظام لوہار اور فرنگی جیسی فلموں میں لازوال کردار ان کی انمٹ فنکارانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہیں۔

فرنگی تو ایسی فلم ثابت ہوئی جس کی آج تک فلمی صنعت میں مثال دی جاتی ہے، اس فلم کا گیت گلوں میں رنگ بھرے جو مہدی

حسن نے گایا اور علاﺅ الدین پر فلمایا گیا، نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔

انھوں نے 319 فلموں میں کام کیا،جن میں سے 194 اردو اور 125 پنجابی تھیں۔

تیرہ مئی 1983ءکو ان کا لاہور میں انتقال ہوا۔عوامی اداکار علاﺅالدین نے فن اداکاری میں جو نقوش چھوڑے ہیں وہ نو وارد اداکاروں کے لئے مشعل راہ ہیں۔
گول گپے والا آیا گول گپے لایا جیسے گانے کو اپنی اداکاری سے لافانی بنادینے والے نامور ورسٹائل ایکٹر علاﺅالدین کی پیدائش راولپنڈی میں ہوئی ابتدا ئی تعلیم حا صل کر نے کے بعد وہ بمبئی چلے گئے جہاں1942ءمیں سنجوگ نامی فلم میں اداکاری کرکے اپنے فنی کیرئیر کا آغازکیا، تاہم انہیں اصل شہرت بھارتی فلم میلہ سے ملی، جس میں انھوں نے دلیپ کمار اور نرگس کیساتھ اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان بننے کے بعد انھوں نے لالی وڈ کی پہلی پنجابی فلم پھیرے میں ولن کا کردار ادا کیا جو یادگار بن گیا۔اس کے بعد علاﺅ الدین کی بطور ولن کئی پنجابی فلمیں سپر ہٹ ہوئیں، جن میں پتن، شہری بابو، پاٹے خان اور دلا بھٹی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
تاہم 1957ءمیں اردو فلم آس پاس کی کامیابی کے بعد علاﺅ الدین ایک ایسے فنکار کے روپ میں سامنے آئے جس کے لئے فلموں میں خصوصی کردار تحریر کئے جانے لگے۔جس کی مثال راز، آدمی، بھروسہ، نیند، کوئل، جھومر، سسرال اور بنجارن جیسی یادگار فلموں میں علاﺅ الدین کے غیرروایتی کردار ہیں۔

پنجابی فلم کرتار سنگھ وہ پہلی فلم تھی جس میں علاﺅ الدین نے بطور ہیرو کام کیا، یہ فلم انتہائی کامیاب رہی اور علاﺅ الدین بام عروج پر پہنچ گئے۔

شہنشاہ غزل مہدی حسن کا پہلا سپرہٹ فلمی گیت بھی علاﺅ الدین پر فلمایا گیا تھا،جسکے بول یہ ہیں۔

اسی طرح فلم بدنام میں علاﺅ الدین کا مکالمہ تو پاکستانی فلمی صنعت میں کلاسیک کا درجہ رکھتا ہے۔ جو یہ ہے۔ کہاں سے آئے ہیں یہ جھمکے، کیا کہہ رہے ہیں یہ جھمکے۔

انہوں نے اپنی اعلیٰ پرفارمینس سے کئی کرداروں کو امر کر دیا ، تیس مار خان ،ہڈ حرام ،پھنے خان ،ان پڑھ ،نظام لوہار اور فرنگی جیسی فلموں میں لازوال کردار ان کی انمٹ فنکارانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہیں۔

فرنگی تو ایسی فلم ثابت ہوئی جس کی آج تک فلمی صنعت میں مثال دی جاتی ہے، اس فلم کا گیت گلوں میں رنگ بھرے جو مہدی

حسن نے گایا اور علاﺅ الدین پر فلمایا گیا، نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔

انھوں نے 319 فلموں میں کام کیا،جن میں سے 194 اردو اور 125 پنجابی تھیں۔

تیرہ مئی 1983ءکو ان کا لاہور میں انتقال ہوا۔عوامی اداکار علاﺅالدین نے فن اداکاری میں جو نقوش چھوڑے ہیں وہ نو وارد اداکاروں کے لئے مشعل راہ ہیں۔