شادی کے بعد ہر عورت کی سب سے پہلی خواہش ماں بننا ہوتی ہے،لیکن یہ خواہش اس وقت دم توڑ جاتی ہے جب گھر کے آنگن میں پھول کھلنے سے پہلے ہی مرجھا جاتا ہے۔ جی ہاں ،آج بات ہوگی اسقاط حمل ےا ابورشن پر،اسقاط حمل کی کیا وجوہات ہیں ،آئیے جانتے ہیں معروف گائناکولوجسٹ ڈاکٹر سلوت عسکری سے،
اسقاط حمل کے باعث خواتین کا جسم مختلف پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتا ہے،جبکہ ڈاکٹر سلوت کے مطابق خاتون کے پہلی بار حاملہ ہونے کی صورت میں بہت زےادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ پہلے ابارشن کے بعد دوبارہ کئی بار ابارشن ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ،جبکہ خواتین کی ہڈیاں بھی بہت کمزور ہو جاتی ہیں،
حاملہ خواتین کو ابارشن سے بچنے کے لئے اپنی غذا اور خوراک کا بہت خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ،ڈاکٹر سلوت اس حوالے سے مشورہ دیتے ہوئے کہتی ہیں،
حاملہ خاتون کو اسقاط حمل کے خطرے سے بچانے کے لئے صرف غذا اور خوراک ہی ضروری نہیں بلکہ دوران حمل شوہر اور گھروالوں کا درست رویہ اور دیکھ بھال بھی بہت ضروری ہوتی ہے اور اگر خدانخواستہ اسقاط ہو جائے تب بھی شوہر اور گھر والوں کی یہ بھاری ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عورت کے دکھ اور تکلیف کے اس مرحلے میںاس کا جذباتی طور پر بہت زےادہ خیال رکھیں،
آج کل کا دور مقابلے کا دور ہے،اور ہمیں یہ ےاد رکھنا چاہئے کہ غیر صحت مند قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی اور اگر قوموں کی تربیت کرنے والی اور ان کو پروان چڑھانے والی ماں کی صحت کو خطرات لاحق ہوں تو اس قوم کی ترقی کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔