Written by prs.adminJune 25, 2013
Singapore Bloggers Protest Against Online News Media License – سنگاپور آن لائن قانون
Asia Calling | ایشیا کالنگ Article
سنگاپور کی آن لائن برادری نیوز ویب سائٹس پر نئے لائسنس قوانین کے حوالے سے کافی فکرمند ہیں، بلاگرز اور متبادل نیوز میڈیا کے ایک گروپ نے اس حوالے سے احتجاج بھی کیا۔ اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ
دو ہزار سے زائد سنگاپور کے علاقے ہونگ لم پارک میں نیوز ویب سائٹس کے حوالے سے نئے حکومتی قوانین کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ یہ احتجاج مقامی بلاگرز کے گروپ فری مائی انٹرنیٹ کے تحت ہورہا ہے۔
نئے قوانین کا اطلاق مقامی خبریں شائع کرنے والی ویب سائٹس پر ہوگا، ان ویب سائٹس کو لائسنس کیلئے بھی درخواست دینا پڑے گی اور چالیس ہزار ڈالرز جمع کرانا ہوں گے۔اسی طرح حکومت کی جانب سے ہدایت دی گئی تو انہیں چوبیس گھنٹوں میں متعلقہ مواد سائٹ س ہٹانا ہوگا، اور اگر کسی نے قانون توڑا تو اس پر ایک لاکھ ساٹھ ہزار ڈارلز جرمانہ اور تین سال قید کی سزا بھی سنائی جاسکے گی۔
احتجاج سے قبل ایک سو سے زائد بلاگرز نے چوبیس گھنٹے کا بلیک آﺅٹ احتجاج ریکارڈ کرایا، جس میں مختلف ویب سائٹس کے ہوم پیجز کو سیاہ کردیا گیا۔ اب تک دس نیوز ویب سائٹس لائسنس کیلئے درخواستیں دے چکی ہیں، جن میں اکثر کا تعلق حکومت سے ہے۔تاہم بلاگرز فکرمند ہیں کہ اس قانون کا اطلاق ذاتی بلاگز اور متبادل نیوز میڈیا پر بھی ہوسکتا ہے جو کہ اکثر حکومت مخالف ہوتے ہیں۔ چھو زنگ ہی ایک معروف سیاسی نیوز ویب سائٹ دی آن لائن سیٹیزن کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔
چھو”انھوں نے ہمیں قوانین کے بارے کچھ تفصیلات تو بتائی ہیں، یہ قانون سنگاپور نیوز پروگرام کے زیرتحت نافذ ہوگا، تو جب وہ کہتے ہیں کہ اس کا اطلاق صرف نیوز ویب سائٹس پر ہوگا تو اس سے سنگاپوری عوام کو اعتبار نہیں آتا کیونکہ یہاں اس قانون کے مسودے میں ہر شخص پر قانون کے اطلاق کا ذکر ہے، چاہے وہ بلاگ کرتا ہوں، کسی کو بھی انٹرنیٹ صارفین کی پروا نہیں”۔
تاہم حکومت کا اصرار ہے کہ ان تبدیلیوں سے بلاگز اور ذاتی تحاریر متاثر نہیں ہوں گی، اس کا کہنا ہے کہ نئے قوانین صرف آن لائن میڈیا کو ضابطے میں لانے کیلئے ہے، حکومتی پارلیمانی کمیٹی برائے اطلاعات و کمیونیکشن کے سربرا ہ زکی محمد کا کہان ہے کہ اس قانون کی ضرورت فحش مواد اور متنازعہ مضامین کو پھیلنے سے روکنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔
زکی”اگر آپ آج اس خطے کا جائزہ لیں جہاں ہم رہ رہیں، تو معلوم ہوگا یہ ایک زندہ دل خطہ ہے جہاں مذہب اور نسل کے بارے میں بات چیت کا احترام کیا جاتا ہے۔اور میرے خیال میں اس قانون کے ذریعے ہم کسی قسم کے مذہبی یا نسلی فساد کو روک سکیں گے”۔
ان کے خیال میں لوگوں کی بہت زیادہ تنقید غیرضروری ہے۔
زکی”موجودہ قوانین میں بلاگز، ریمارکس اور دیگر آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں کچھ نہیں، تو مجھے لگتا ہے کہ بلاگرز بے فضول خوف کا شکار ہیں، حالانکہ اس انہیں فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، انہیں امید رکھنی چاہئے کہ حکومت انٹرنیٹ پر اظہار رائے کی آزادی کیلئے پرعزم ہے”۔
تاہم صحافیوں کی عالمی تنظیمرپورٹرس ودآوت بارڈرز نے صحافتی آزادی کے حوالے سے سنگاپور کو 179 ممالک کی فہرست میں 149 ویں نمبر پر رکھا ہے، جبکہ معروف سیاسی تجزیہ کار پی این بالی جی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں لگتا ہے کہ ہر قسم کی ویب سائٹس پر لائسنس کا حصول لازمی قرار دیدیا جائے گا۔
بالی جی”یہ بہت اسمارٹ حکومت ہے، وہ ایسے قوانین کے ساتھ سامنے نہیں لائی جو ایک وقت میں تمام ویب سائٹس کو متاثر کریں، یعنی یہ ایک ایسی تلوار ہے جو پہلے نیوز ویب سائٹس پر گری گی اور پھر اوپر کی طرف سفر کرنا شروع کرے گی”۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ نئے قوانین پارلیمنٹ میں بغیر کسی بحث کے منظور کرائے جارہے ہیں، اور اس پر آن لائن برادری سے بھی مشاورت نہیں کی گئی۔کیلوین چینگ سنگاپور پارلیمنٹ کے سابق رکن ہیں۔
چینگ”ناقدین کو اس قانون سے حاصل ہونے والے مواقعوں کا جائزہ لینا چاہئے، یعنی ایک قابل اعتبار، پیشہ ور آن لائن نیوز سائٹ چلانے کا موقع جو حکومتی کنٹرول میں نہیں ہوگی۔ درحقیقت یہ تو سنگاپور میں میڈیا اداروں کیلئے ایک موقع ہے کہ وہ پیشہ ور بنیادوں پر ایک منافع بخش ویب سائٹ چلاسکیں، اس سے انہیں رضاکاروں پر انحصار کی بجائے کل وقتی صحافی رکھنے کا موقع ملے گا اور اس متبادل میڈیا کی ساکھ بھی بڑھے گی”۔
مگر تجزیہ کارپی این بالی جی کا ماننا ہے کہ حکومت ان قوانین کا اطلاق آئندہ عام انتخابات کو ذہن میں رکھ کے کررہی ہے۔
پی این بالی جی”گزشتہ انتخابات میں انٹرنیٹ میڈیا نے کافی اہم کردار ادا کیا تھا، ہم نے گزشتہ انتخابات میں دیکھا تھا کہ حکمران جماعت کو حاصل ووٹوں کی شرح میں ساٹھ فیصد تک کمی ہوئی ہے، تو یہ آن لائن میڈیا نہ صرف عام معاملات کی رپورٹنگ کررہا ہے بلکہ یہ ایسے معاملات بھی سامنے لارہا ہے جو حکومت چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ میرے خیال میں اسی لئے بہت زیادہ افراد نیوز ویب سائٹس کا رخ کرتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ مرکزی میڈیا متعدد معاملات کی رپورٹنگ سے گریز کرتا ہے جس سے لوگوں کو لگتا ہے کہ آن لائن میڈیا حقائق لانے میں زیادہ کارآمد ہے”۔
You may also like
- Solangi Inaugurates Media Training Program at Reactivated Pakistan Broadcasting Academy
- NACTA delegation, DG Information KP discuss media role in peace
- PEMRA to hold bidding for FM Radio licenses on Thursday
- Radio Pakistan achieves significant milestones in ‘digital migration’: Solangi
- Khyber Pakhtunkhwa minister opens podcast studio in UoP Journalism Dept
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | 2 | 3 | 4 | |||
| 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 |
| 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 |
| 19 | 20 | 21 | 22 | 23 | 24 | 25 |
| 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | |
