Rights groups call for end to child marriage in Malaysiaملائیشیاءمیں بچوں کی شادیوں کا مسئلہ

February 12, 2014

ملائیشیاءمیں بچوں کی شادی کا معاملہ اس وقت میڈیا کی شہ سرخیوں میں جگہ پاگیا، جب ایک عدالت نے ایک شخص کو بارہ سالہ بچی سے شادی پر بارہ سال قید کی سزا سنادی، اسی حوالے سے سسٹرز ان اسلام ملائیشیا کی پروگرام منیجرسوری کیمپ کا انٹرویو سنتے ہیں آج کی رپورٹ میں

سوری کیمپ”بدقسمتی سے ملائیشیاءمیں بچوں کی شادی کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے، میرا مطلب ہے کہ ہر سال کم از کم ایسا ایک واقعہ میڈیا کی ہیڈلائنز کا حصہ ضرور بنتا ہے، تو جس کیس کی آپ بات کررہے ہیں اس سے قبل بھی ایک تیرہ سالہ بچی سے چالیس سالہ شخص کی زیادتی کا واقعہ سامنے آیا، جبکہ اس سے پہلے بھی ایک بارہ سالہ بچی کی انیس سالہ نوجوان کی شادی ہیڈلائنز کا حصہ بنی تھی، بچی کے والد کا دعویٰ تھا کہ اس نے شادی کی اجازت دی تھی، کیونکہ اس بچی کو دلہا نے زیادتی کا نشانہ بنادیا تھا۔جب باپ نے پولیس میں رپورٹ لکھوائی تو لڑکے کے والدین نے لڑکی کے باپ سے ملکر مقدمہ واپس لینے کی درخواست کی اور اس مسئلے کا حل شادی تجویز کیا”۔

سوال”تو اس طرح کے واقعات ملائیشین میڈیا کا حصہ بنتے رہتے ہیں، مگر عام خیال تو یہ ہے کہ بچوں کی شادیاں ملائیشیاءمیں عام ہیں؟

سوری کیمپ” سنہ دو ہزار میں ہونے والی خانہ و مردم شماری کے مطابق 6800 اڑسٹھ ہزارسے زائد پندرہ سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیاں ہوچکی ہیں، اس کے دس سال بعد یعنی سنہ 2010ءدو ہزار دس میں خواتین، خاندان و برادری ڈویلپمنٹ کے نائب وزیر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پندرہ سال سے کم عمر سولہ ہزار لڑکیوں کی شادی ہوچکی ہے، تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ مسئلہ بڑھ رہا ہے اور ہم صرف انفرادی واقعات کے بارے میں ہی سوچتے ہیں، میرے خیال میں ہمیں اس بارے میں مزید کام کرنا چاہئے، حیرت انگیز امر یہ ہے کہ شہری اور دیہی علاقوں میں یہ رواج عام ہے اور اس پر کسی کو حیرت بھی نہیں ہوتی۔ تاہم اب بھی کم آمدنی والے طبقوں میں ہی اس طرح کی شادیاں ہوتی ہیں”۔

سوال”جہاں تک میرا علم کہتا ہے کہ سولہ سال سے کم عمر لڑکیوں کو شریعت کے تحت شادی کی اجازت ہے، تو کیا اس طرح کے قوانین موجود ہیں؟

کیمپ”جی ہاں اس طرح کے قواین ہیں، مگر یہ بات واضح ہے کہ مسلم اور غیرمسلم دونوں برادریوں میں یہ رواج ہے، تاہم اکثر واقعات مسلمانوں کے ہی سامنے آتے ہیں، جی ہاں مسلمانوں کے مقدمات شرعی عدالتوں میں جلتے ہیں، اور وہ شادی کی اجازت بھی دیدیتی ہیں، تو اس طرح کی شادیوں کیلئے درخواست شرعی عدالت میں جمع کرانا پڑتی ہے، پھر عدالت فیصلہ کرتی ہے کہ اس کی اجازت دے یا نہیں، جبکہ غیرمسلموں کو اس کیلئے چیف منسٹر یا مشرقی ملائیشین صوبوںصبا ح اوسراواک کے قوانین پر عمل کرنا پڑتا ہے، انہیں متعلقہ عہدیدار کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے، جو عام طور پر لی نہیں جاتی”۔

سوال”شرعی عدالت میں عمر کے لحاظ سے کس قسم کے دلائل کی ضرورت پڑتی ہے؟

کیمپ”شرعی عدالتوں میں اس حوالے سے کوئی خاص معیار طے نہیں، جو کہ ایک مسئلہ ہے، کیونکہ اس طرح کی درخواستوں میں اکثر بچیوں کو پہلے سے زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر مجبوراً والدین اس طرح کی شادی کیلئے تیار ہوجاتے ہیں۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ لڑکے کی عمر کم ہونے کی بجائے کافی زیادہ ہوتی ہے”۔

سوال”مختصراً بتائیں کیا آپ انتطامیہ خصوصاً عدالتی عہدیداران کو پسند کرتی ہیں؟

کیمپ”ہم انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شادی کی کم از کم عمر اٹھارہ سال مقرر کی جائے، ملائیشیاءبھر میں خواتین گروپس کا یہی مطالبہ ہے”۔

Category: Asia Calling | ایشیا کالنگ

Comments are closed.

burberry pas cher burberry soldes longchamp pas cher longchamp pas cher polo ralph lauren pas cher nike tn pas cher nike tn nike tn pas cher air max 90 pas cher air max pas cher roshe run pas cher nike huarache pas cher nike tn pas cher louboutin pas cher louboutin soldes mbt pas cher mbt pas cher hermes pas cher hollister pas cher hollister paris herve leger pas cher michael kors pas cher remy hair extensions clip in hair extensions mbt outlet vanessa bruno pas cher vanessa bruno pas cher vanessa bruno pas cher ralph lauren pas cher