PPI NEWS Bulletin 1500پی پی آئی نیوزبلیٹ

December 21, 2013

ہیڈلائنز:۔

کرپشن اور آئین سے انحراف کو برداشت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، نامزد چیف جسٹس۔
کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں اس لئے چھ سال میں ایک بھی پٹواری بھرتی نہیں کیا، شہباز شریف۔
نیٹو سپلائی کیخلاف تحریک انصاف کا دھرنا 16 ویں روز بھی جاری۔
بلوچستان بلدیاتی انتخابات میں آزاد امیدواروں نے میدان مارلیا۔
اور
رجحان ساز شاعر ناصرکاظمی کا 88 واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے۔

خبروں کی تفصیل:۔

نامزد چیف جسٹس آف پاکستان تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ کرپشن اور آئین سے انحراف کو برداشت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ایک انٹرویو کے دوران جسٹس جیلانی نے مزید کہا کہ ملک میں شرح خواندگی بہت کم ہے، لوگوں کو اپنے حقوق کا علم ہی نہیں ہے۔ حکمرانی کے مسائل بھی سنگین ہیں اور یہ باتیں عوامی مفاد میں مقدمات کی اہمیت کو کئی گنا بڑھادیتی ہیں۔ ایک سوال پر نامزد چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل کو ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیںہوتا،جسٹس افتخار محمد چوہدری سپریم کورٹ کے لئے رول ماڈل ہوں گے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آج پاکستانی پاسپورٹ کو دنیا بھر میں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جس کے ذمہ دار کوئی اور نہیں ہم ہی ہیں اور موجودہ نظام میں فرشتہ صفت انسان کو بھی لایا جائے تو اس پر بھی برا اثرپڑے گا۔لاہور میں میڈیا سے بات چیت کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ وہ وقت جلد ہی آئے گا جب سبز پاسپورٹ کی ایک بار پھرعزت و تکریم ہوگی لیکن جرنیل ،جج، میڈیا اور عام آدمی سب کو مل کر ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنا ہوگا۔میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ کرپشن کاخاتمہ چاہتے ہیں، موجودہ نظام میں فرشتہ صفت انسان کو بھی لایا جائے تو اس پر بھی اثرپڑے گا، پٹواریوں کے خلاف ہونے کی باتیں ان سے منسوب کی گئیں،وہ پٹواری کے نہیں پٹواری مافیا کے خلاف ہیں اور اس مافیا کی کرپشن کا خاتمہ کرنا ضروری ہے، اس لئے گزشتہ 6 برسوں کے دوران کئی سمریاں آئیں لیکن انہوں نے ایک بھی پٹواری بھرتی کرنے کی منظوری نہیں دی۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ کوئی بھی نظام طاقت کے استعمال سے ٹھیک نہیں کیا جاسکتا اس کے لئے درست سمت کا تعین ضروری ہے،میٹروبس کو جنگلہ بس کہنے والے دیکھ لیں آج روزانہ ایک لاکھ پچاس ہزار افراد اسی میٹروبس کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ اسی طرح ملک میں جاری توانائی کا بحران بھی ختم کیا جائے گا۔

پشاور میں تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کا دھرنا آج16 ویں روز بھی جاری ہے۔ پشاور میں جاری دھرنے میں پاکستان تحریک انصاف اوراتحادی جماعتوں کے کارکنان نے آج افغانستان جانے والے تین کنٹینرز کو بھی روکا اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد گاڑیوں کو افغانستان جانے کی اجازت دی گئی۔ٹول پلازہ پر دھرنے کے مقام پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔گزشتہ 15 روز کے دوران 18 کنٹینرز کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔

بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات میں کل ایک ہزار چھ سو اسی نشستوں پر انتخابات ہوئے،،،،جن میں بیشتر سیٹوں پرآزاد امیدوار کامیاب رہے،،،جبکہ حکمراں جماعت نیشنل پارٹی دوسو چونتیس نشستوں کے ساتھ سر فہرست رہی۔ بلوچسان میں کل اضلاع بتیس ہیں،، تین اضلاع میں الیکشن ملتوی کرنا پڑا ،،، انتیس اضلاع کی سولہ سو اسی نشستوں کے لئے ووٹ ڈالے گئے۔ آزاد امیدواروں نے 523 نشستیں جیت کر میدان مارلیا، پارٹی پوزیشن میں وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کی جماعت نیشنل پارٹی پہلے نمبر ہے، نیشنل پارٹی کے امیدواروں نے 234 نشستیں حاصل کرلیں، پاکستان مسلم لیگ ن 144 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے۔ پشتونخوا میپ نے 122 نشستیں جیت کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ بلوچستان نیشنل پارٹی نے 68ے نشستیں حاصل کیں، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی نے 62 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائ اسلام ف اپنے مضبوط گڑھ بھی ہارگئی، اس کے امیدوار 31 نشستوں پر کامیاب ہوسکے۔ مسلم لیگ ق نے 14 اور جمعیت علمائ اسلام نظریاتی نے 14 چودہ نشستیں حاصل کی ہیں۔

گئے دنوں کا سراغ لیکر کدھر سے آیا، کدھر گیا وہ، عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کرگیا وہ ،جیسے ہزاروں اشعار کے خالق اردوغزل کے رجحان ساز شاعر ناصرکاظمی کا 88 واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے۔سید ناصررضاکاظمی المعروف ناصرکاظمی کی پیدائش آٹھ دسمبر1925کو بھارتی پنجاب کے شہرانبالہ میں ہوئی۔ناصر نے ابتدائی تعلیم نوشہرہ،پشاور اور انبالہ سے حاصل کی،1939ءمیں صرف سولہ سال کی عمرمیں لاہور ریڈیو کے ساتھ بطور سکرپٹ رائٹر منسلک ہو ئے اور پھر آخری وقت تک کسی نہ کسی صورت ریڈیوپاکستان کے ساتھ منسلک رہے۔اسکے علاوہ وہ مختلف ادبی جریدوں، اوراق نو، ہمایوں اور خیال کے مدیر بھی رہے۔
ناصر کاظمی نے اپنی تخلیقی زندگی کی ابتداءتیرہ برس کی عمر میں کی اور ابتداءمیں اس زمانے کے معروف شاعر اخترشیرانی سے متاثرہوکر رومانوی نظمیں اور پھر غزلیں کہیں۔انہیں بطور شاعر مقبولیت اس وقت حاصل ہوئی جب وہ ایف۔اے کے طالب علم تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کے اشعار کی مہک گوشے گوشے میں پھیل گئی اور پاکستان کو ناصر کاظمی کے روپ میں ایک نیا شاعر نصیب ہوا۔
ناصر کاظمی نے پیروی میر کرتے ہوئے اپنے سادہ اسلوب ،قادرالکلامی ،ندرت خیال، سچے جذبوں اور احساسات کی بدولت اردو غزل کا دامن ایسے ایسے تابدار موتیوں سے بھر دیا ہے کہ اردو ادب کی تاریخ میں امر ہو گئے۔کپڑے بدل کر جاﺅں کہاں، دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا، دل میں اک لہر سے اٹھی ہے ابھی، نیت شوق بھر نہ جائے کہیں، جیسی غزلیں ظاہر کرتی ہیں کہ جذبے کی شدت،اظہار کی سادگی اور تصویری پیکر سازی ان کی شاعری کے بنیادی عناصر ہیں۔
ناصر کاظمی کا پہلا شعری مجموعہ برگ نے کے نام سے 1952ءمیں شائع ہوا۔اسکے علاوہ دیوانہ، پہلی بارش، نشاط خواب، سر کی چھایا، خشک چشمے کے کنارے اورانکا دیوان بھی دیگر مجموعوں میں شامل ہےں۔ناصر کاظمی نے2مارچ 1972ءکو معدہ کے کینسر کی وجہ سے وفات پائی، تاہم انکی شہرت میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔ خود انکے اپنے الفاظ میں” ڈھونڈیں گے لوگ مجھ کو ہر محفل سخن میں” ہر دور کی غزل میں میرا نشان ملے گا”

Category: Business, General, News Bulletins | نیوز بلیٹن, Politics

burberry pas cher burberry soldes longchamp pas cher longchamp pas cher polo ralph lauren pas cher nike tn pas cher nike tn nike tn pas cher air max 90 pas cher air max pas cher roshe run pas cher nike huarache pas cher nike tn pas cher louboutin pas cher louboutin soldes mbt pas cher mbt pas cher hermes pas cher hollister pas cher hollister paris herve leger pas cher michael kors pas cher remy hair extensions clip in hair extensions mbt outlet vanessa bruno pas cher vanessa bruno pas cher vanessa bruno pas cher ralph lauren pas cher