India’s Plan to Revive Sole Chinatownبھارتی چائنا ٹاﺅن کی بحالی

بھارت کے واحد چائنا ٹاﺅن کی بحالی کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں، کولکتہ میں واقع اس علاقے میں ایک وقت تھا جب پچیس ہزار کے قریب لوگ آباد تھے مگر اب آبادی پندرہ سو کے قریب ہی رہ گئی ہے، تاہم حکام اس علاقے کی بحالی کیلئے کوشاں ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

کولکتہ کے مصروف ترین ٹریٹی بازارکو چائنا ٹاﺅن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یہ بھارت کی ان چند جگہوں میں سے ایک ہے جہاں حقیقی چینی کھانے ملتے ہیں، کولکتہ میں چینی نژاد افراد دو سو سال سے آباد ہیں اور وہ اس شہر کے ثقافتی اور سماجی عناصر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، یہ لوگ 18 ویں صدی میں وسطی چین میں قحط پڑنے کے بعد بھارت منتقل ہوئے تھے، ان میں سے بیشتر افرادہا کا کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے اور وہ بندرگاہ میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ چمڑا رنگنے اور ریسٹورنٹ کھول کر یہاں کی آبادی کیساتھ گھل مل گئے، مگر جب 1962ئانیس سو باسٹھ میں بھارت اور چین کے درمیان جنگ ہوئی تو کولکتہ سے چینیوں کی نقل مکانی شروع ہوگئی، ان چینیوں کیلئے نوے کی دہائی کے بعد صورتحال زیادہ بدتر اس وقت ہوگئی جب سپریم کورٹ نے چمڑہ رنگنے کے کارخانے شہر سے باہر منتقل کرنے کا حکم دیا، اس فیصلے سے متعدد افراد بیروزگار ہوگئے اور اکثر کارخانے بند ہوگئے۔ ایلن لنگ ایک چینی نژاد خاتون ہیں، ان کا خاندان چار نسلوں سے یہاں آباد ہیں۔

ایلن لنگ”ہمیں چمڑے کے کارخانے دوبارہ لگانے کیلئے بہت زیادہ سرمایہ خرچ کرنا پڑا، اسی وجہ سے متعدد افراد کی اس کاروبار سے دلچسپی ہی ختم ہوگئی کیونکہ انہیں بہت زیادہ مالی نقصان کا سامنا ہوا، اسی وجہ سے ہماری برادری کے لوگ کینیڈا اور آسٹریلیا منتقل ہوگئے اور بھارت میں ہماری تعداد کم ہونے لگی”۔

طویل عرصے سے بھارت میں قیام کے باوجود چینی برادری اور مقامی افراد میں عدم اعتماد تاحال ختم نہیں ہوسکا، ان چینیوں کو حکومتی اداروں پر بھی کوئی بھروسہ نہیں۔ پال چنگ ، انڈین چائینیز ایسو سی ایشن کے صدر ہیں، وہ اس رجحان کو تبدیل کرنے کے خواہشمند ہیں۔

چنگ”ہماری برادری روتی نہیں نہ ہی چینیوں کی جانب سے احتجاج ہوتا ہے، اس سے پہلے ہم اپنے مسائل کے حل کیلئے سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرتے تھے، وہ محض زبانی وعدے کرکے ہمیں ٹال دیتے تھے، جب ہمیں لگتا تھا کہ ہمارے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی تھی تو ہم کھڑے ہوجاتے تھے اور ہم جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کرنےکی کوشش کرتے تھے”۔

ایک نوجوانلانگ لی کا ماننا ہے کہ بھارتی حکومت کو چینی برادری تک پہنچ کر نقل مکانی کے رجحان کی روک تھام کیلئے کام کرنا چاہئے۔

لانگ لی”چینی افراد بہتر مستقبل کیلئے دوسری جگہوں کا رخ کررہے ہیں، اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ حکومت کی جانب سے ہمارے مستقبل کیلئے کچھ بھی نہیں کیا جارہا، حکومت نے ہمیں کچھ بھی نہیں دیا، حکومت نے ہمیں بات کرنے کیلئے موقع تک فراہم نہیں کئے”۔

تاہم اب اس برادری میں ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے کیونکہ چائنا ٹاﺅن کی دوبارہ بحالی کیلئے کوششیں جو شروع ہوگئی ہیں۔ انڈین نیشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ کلچرل ہریٹیج کی جانب سے حکومت کو چائنا ٹاﺅن کی بحالی اور تزئین نو کی تجویز دی گئی ہے تاکہ یہاں سیاحت کو بڑھایا جاسکے، مقامی حکومت نے بھی اس منصوبے میں شراکت دار بننے پررضامندی ظاہر کردی ہے۔ ڈومینیک لی ایک دکاندار ہیں، جو بحالی کی اس کوشش میں شریک بھی ہیں۔

ڈومینیک لی”ہم پرانے چائنا ٹاﺅن کے احیاءکی منصوبہ بندی کررہے ہیں، تاکہ موجودہ اور آئندہ نسل یہاں واپس آسکے، سب سے پہلے ہم نوجوانوں کیلئے مواقع پیدا کرنے چاہتے ہیں، ہم اس سلسلے میں ایک سنگاپور کی کمپنی اینٹیک کیساتھ ملکر کام کررہے ہیں، جبکہ ہم نے حکومت سے بھی رابطہ کیا ہے، ہم پرامید ہیں کہ بہت جلد ہم بھارت کے اس واحد چائنا ٹاﺅن کو بحال کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے”۔