India’s First Female Taxi Service – بھارت میں خواتین کی پہلی ٹیکسی سروس

نئی دہلی کو بھارت میں جنسی زیادتیوں کے دارالحکومت کی حیثیت سے بھی جانا جاتا ہے، جہاں ہر بیس منٹ میں ایک خاتون زیادتی کا نشانہ بن جاتی ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں ایک طالبہ کیساتھ اجتماعی زیادتی ہے ہولناک واقعے کے بعد سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ شہر خواتین کیلئے محفوظ نہیں۔یہاں پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی خواتین کو ہراساں کی جاتا ہے، تاہم اب ایک خواتین گروپ نے اس مسئلے کا حل کا ویمن ٹیکسی سروس کی صورت میں نکالنے کی کوشش کی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

اکیس سالہ چاندنی اپنے نیلی وردی میں ملبوس کھڑی ہے، نئی دہلی کی ایک کار پارکنگ لاٹ میں وہ اپنی ٹیکسی میں آج کے دن کی پہلی مسافر کو بٹھانے کیلئے تیار ہے۔ چاندنی نئی دہلی کی خواتین ٹیکسی ڈرائیورز میں سے ایک ہے۔

چاندنی”لوگ ہمیشہ کہتے ہیں کہ مردوں اور خواتین کو الگ الگ کام کرنا چاہئے، کچھ کام جیسے کھانا پکانا، سلائی اور کڑھائی وغیرہ خواتین کیلئے مخصوص سمجھے جاتے ہیں، جبکہ ملازمتیں جیسے ڈرائیونگ اور پلمبرنگ وغیرہ پر مردوں کا غلبہ ہے، درحقیقت یہ ایک مصنوعی تقسیم ہے، میں تمام رکاوٹیں ختم کرنا چاہتی تھی اور آج میں خوش ہوں کہ میں نے وہ منزل طے کرلی ہے جو خواتین کے لئے ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ ایک کمرشل ڈرائیور کی حیثیت سے ہم نے تمام سماجی بندشیں توڑ دی ہیں اور تمام خیالات کو تہس نہس کردیا ہے”۔

چاندنی کی سفید گاڑی پر لکھا ہے کہ خواتین کی یہ ٹیکسی خواتین کے لئے مخصوص ہے۔ یہ خاص ٹیکسی سروس ہے، جو خواتین کے لئے مخصوص ہے اور اس کو چلانے والی بھی عورتیں ہی ہیں، ایک این جی او سخا کنسلٹینٹ ونگزاور آزاد فاﺅنڈیشن نے مشترکہ طور پر یہ پروگرام شروع کیا ہے۔ بھارت میں خواتین کا تحفظ ایک حساس موضوع ہے اور اس سروس کو شروع کرنے کا مقصد ہی شاہراﺅں پر خواتین کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ نین تارا جندھارا، ا کنسلٹینٹ ونگز کی چیف آپریٹنگ آفیسر ہیں۔

نین تارا”ہمارا یہ ماننا ہے کہ اگر ہم خواتین کو بااختیار بنائیں گے تو اس معاشرے میں موجود صنفی تقسیم ختم ہوجائے گی، ہم کچھ بستیوں کی غریب خواتین کو بااختیار بنارہے ہیں، اور ہم روزگار کیلئے تربیت بھی فراہم کررہے ہیں۔اسی طرح ہم متوسط طبقے کی خواتین کو بھی بااختیار بنارہے ہیں ، جو ہماری خدمات سے استفادہ اٹھارہی ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ عوامی مقامات پر خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کی شرح بڑھی ہے اسی لئے ہم نے سوچا کہ عوامی مقامات پر خواتین کے تحفظ کیلئے کچھ کیا جانا چاہئے”۔

حالیہ مہینوں کے دوران خواتین کے خلاف جنسی جرائم کی شرح میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، صرف نئی دہلی میں ہی ہر بیس منٹ میں ایک خاتون زیادتی کا شکار ہورہی ہے۔

گزشتہ سال دسمبر میں ایک طالبہ سے اجتماعی زیادتی کے بعد ملکی سطح پر احتجاج شروع ہوا اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ نین تارا جندھاراکا کہنا ہے کہ اس واقعے کے باعچ انھوں نے اپنی ٹیکسی سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

نین تارا”اس وقت ہمیں متعدد کالز آرہی ہیں، متعدد افراد فون کرکے ہم سے تصدیق کرتے ہیں کہ یہ ٹیکسی سروس کام کررہی ہے کہ نہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فون کالز دنیا بھر سے آرہی ہیں، اور لوگ ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ وہ کس طرح اس سروس کو توسیع دینے میں مدد کرسکتے ہیں”۔

ڈرائیورز جیسے چاندنی خاتون ٹیکسی ڈرائیور بننے پر کافی فخر محسوس کررہی ہیں، تاہم انہیں متعدد چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ ان میں سب سے بڑا مرد ٹیکسی ڈرائیورز کا سلوک ہے۔

چاندنی”جب انھوں نے ایک ٹیکسی میں خاتون ڈرائیور کو دیکھا تو انھوں نے فوری طور پر ہارن بجانا شروع کردیئے اور گاڑیاں آگے لانے لگے، اور جب ہم پارکنگ لاٹ میں اپنی ٹیکسیوں میں آرام کررہی ہوتی ہیں تو وہ ہماری گاڑی کے ارگرد جمع ہوکر ایسے دیکھنے لگتے ہیںں، جیسے ہم کوئی خلائی مخلوق ہو، ہم ایک لمحے کیلئے بھی آرام کا موقع نہیں ملتا، ایسا ہر روز ہوتا ہے”۔

تاہم ایک اور خاتون ڈرائیور ریٹا اس سلوک کی عادی ہوچکی ہے، مگر وہ فکرمند ہیں کہ مرد ڈرائیورز کا رویہ دیگر ڈرائیورز کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔

ریٹا”ایسا آج صبح ہی ہوا، میں ایک مسافر اٹھانے جارہی تھی اور تھوڑی جلدی میں تھی، یہی وجہ ہے کہ میں نے مرد ڈرائیور کی گاڑی کو اوورٹیک کرلیا، اس نے شروع میں تو مجھے جگہ دیدی مگر پھر اپنے گاڑی میرے متوازی لے آیا، پھر مجھے گھورنے اور مسکرانے لگا۔ میں نے اسے یاد دلایا کہ وہ ڈرائیورنگ کررہا ہے اور اسے سامنے دیکھنا چاہئے، مگر اس نے میری بات نہیں سنی اور ٹریفک سگنل پر سیدھا ایک گاڑی سے جاٹکرایا، اس کے نتیجے میں ٹریفک جام ہوگیا، جبکہ اسکی خوب دھلائی ہوئی”۔

اس سروس کی تمام دس خواتین ڈرائیورز کو تربیتی کورسز سے گزر کر یہاں تک آنے کا موقع ملا، اور ابھی بھی کئی خواتین تربیت حاصل کررہی ہیں۔

ریٹا نے ٹیکسی سروس کی تربیت کے دوران کافی خوداعتمادی حاصل کرلی تھی، ان کی شادی تیرہ سال کی عمر میں ہی ہوگئی تھی تاہم جھگڑوں کی وجہ سے اب وہ مطلقہ ہیں۔ اب وہ دوبارہ شادی کرنے کا سوچنا بھی نہیں چاہتیں۔

ریٹا”تیرہ سال کی عمر میں کوئی شادی کے بارے میں کیا جانتا ہوگا؟ مجھ سے تو اس بارے میں پوچھا بھی نہیں گیا، اور اگر مجھ سے پوچھا بھی جاتا تو اتنی کم عمری میں اس بارے میں مجھے کیا معلوم ہوسکتا تھا۔ آخر کسی ایک شخص کو ہم کسی دوسری کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا کیا حق حاصل ہے، اس سے تو بہتر ہے کہ ہم اپنی زندگیاں اپنی مرضی کے مطابق گزاریں”۔

یہ تریبتی مرحلہ زندگی تبدیل کردینے والا تجربہ ثابت ہوتا ہے، راکیش کمار یہاں تربیت دیتے ہیں۔

کمار”میں یہاں اس روایتی ذہن اور اس خیال کے ساتھ آیا کہ خواتین مردوں کے کام کرنے کے لئے موزوں نہیں، یہی وجہ ہے کہ شروع کے چند ہفتے مجھے کافی دشواری پیش آئی، مجھے لگتا تھا کہ میں اپنا وقت ضائع کررہا ہوں، ان خواتین کے پاس اہلیت نہیں اور وہ میں جتنی بھی کوشش کرلوں وہ کچھ نہیں سیکھ سکیں گی۔ مگر کچھ وقت کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ صرف مردانہ بالادستی کا زعم ہے جس کی وجہ سے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے، جس کے بعد میں آہستہ آہستہ تمام معاملے کو منطقی انداز سے دیکھنا شروع کیا اور صورتحال تبدیل ہونا شروع ہوگئی”۔

سخا اپنی سروس کو توسیع دینے کی منصوبہ بندی کررہی ہے اور اس سلسلے میں حکومت سے مشاورت کررہی ہے کہ کس طرح دہلی کی ہرقسم کی پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کو مواقع فراہم کئے جائیں، سخاا اصرار ہے کہ اس اقدام سے یہ شہر خواتین کے لئے محفوظ ہوجائے گا۔ ڈرائیورز جیسے چاندنی انتہائی بے تابی سے بس ڈرائیور بننے کے موقع ملنے کی منتظر ہیں۔

چاندنی”ہر شخص ٹیکسی کا خرچہ نہیں اٹھاسکتا، تو اگر ہم لوکل ٹرانسپورٹ میں ڈرائیور کرسکیں تو ہم دہلی کو خواتین کے لئے محفوظ بناسکیں گے۔ یہ ضروری بھی ہے کیونکہ ہم اپنے تجربات کی بناءپر جانتے ہیں کہ کس طرح خواتین کو بسوں میں

ہراساں کیا جاتا ہے اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اور جب ایسا ہوتا ہے تو بس ڈرائیور جو خود ایک مرد ہوتا ہے وہ بس نہیں روکتا، کیونکہ اسے پروا ہی نہیں ہوتی کہ کسی خاتون کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ اگر ہمارے پاس خواتین ڈرائیورز ہوں تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، اور اس سے صورتحال میں تبدیلی آنا شروع ہوجائے گی”۔