Written by prs.adminMarch 30, 2013
Fighting TB in Malaysia – ٹی بی کیخلاف ملائیشین جنگ
چوبیس مارچ کو دنیا بھر میں تپ دق کا عالمی دن منایا گیا، جس کا مقصد اس حوالے سے عوامی شعور کو اجاگر کرنا تھا۔ اس دن کے حوالے سے جانتے اس کی رپورٹ میں۔
تپ دق یا ٹی بی نامی وبائی مرض سے دنیا بھر میں سال بھر میں متعدد افراد ہلاک ہوجاتے ہیں، یہ ایک مریض سے کھانسی، ہنسی یا کسی اور وجہ سے ہوا کے ذریعے دوسرے شخص میں ہوا کے ذریعے منتقل ہوسکتا ہے۔ جو شخص اس کا شکار ہوتا ہے وہ دو ہفتے تک لگاتار کھانسی کا شکار رہتا ہے۔ 1950ءکی دہائی میں ٹی بی ملائیشیاءمیں ہلاکتوں کا سب سے بڑا سبب تھا، اس مرض پر کنٹرول کیلئے نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام کا ساٹھ کی دہائی میں آغاز کیا گیا۔ یہ کامیاب رہا تاہم حالیہ برسوں میں اس مرض کے کیسز میں اضافے کے باعث ڈاکٹر پھر فکرمند ہیں۔ انسٹیٹوٹ آف ریسپیٹری ، ڈاکٹر عبدالرزاق کے ڈائریکٹر ہیں۔
ڈاکٹر عبدالرزاق “نوے کی دہائی میں ایچ آئی وی کے ساتھ ساتھ ٹی بی کا مرض بھی پھیلا، اور اگر ہم گزشتہ دو برسوں میں تپ دق کے کیسز کی تعداد دیکھیں تو یہ بیس ہزار سے زائد ہیں۔ یعنی کہا جاسکتا ہے کہ گزشتہ پانچ یا چھ برسوں میں مریضوں کی تعداد بڑھی ہے”۔
متعدد ملائیشین ٹی بی کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے اور انکا خیال ہے کہ یہ تمباکو نوشی کی سبب ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالرزاق “میرے خیال میں لوگوں کو ٹی بی کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں، اسکی وجہ یہ ہے کہ اس پر کافی عرصہ پہلے قابو پالیا گیا تھا، تاہم مجھے توقع ہے کہ لوگ تپ دق کے بارے میں معلومات حاصل کریں گے، اور وہ سمجھ سکیں کہ یہ جراثیم سیگریٹ یا پانی کی بجائے کس طرح ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے”۔
متعدد افراد ٹی بی کی علامات سے بھی واقف نہیں ہوتے، جیسے 64 سالہ عائشہ ہیں۔
عائشہ”میں نے ٹی بی کے بارے میں پڑھا تھا کہ وہ ہمارے لئے خطرناک ہے۔ تاہم مجھے اس کی علامات کے بارے میں معلوم نہیں تھا اور مجھے لگتا تھا کہ میں اس کی شکار نہیں۔ تاہم جب مجھے ٹی بی ہوئی تو میں نے ماضی میں دیکھا تو میرے جسم میں ایسی علامات ابھری تھیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ مجھے ٹی بی پوگئی ہے”۔
کچھ لوگوں ملائیشیاءمیں ٹی بی کے کیسز کی تعداد میں اضافے کا ذمہ دار غیرقانونی تارکین وطن کو قرار دیتے ہیں۔ریاست سباح میں اس موذی مرض کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور یہاں انڈونیشیاءاور فلپائن سے آنے والے افراد کی بھرمار ہے۔ قانونی طور پر ملائیشیاءآنے والے افراد کو آمد کے موقع پر ٹی بی کا ٹیسٹ ہوتا ہے، اگر ان میں یہ مرض ثابت
ہوجائے تو انہیں واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ تاہم سباح میں غیرقانونی تارکین وطن کی بڑی تعداد مقیم ہے، اور وہاں ٹی بی کے کیسز کی شناخت کافی تاخیر سے ہوتی ہے۔
ڈاٹک”کئی بار مریض اور ڈاکٹر دونوں مرض کی شناخت میں غلطی کردیتے ہیں، ڈاکٹروں کو لگتا ہے کہ ٹی بی ہے اور وہ ایکس رے کرانے کا مشورہ دیتا ہے، تاہم مریض اس ہدایت پر عمل نہیں کرتے، جس کے بعد جب مرض کی شناخت ہوتی ہے تو بہت دیر ہوجاتی ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ علاج کرنے والے ڈاکٹر کے پاس ایکس رے کرنے کی ڈیوائس نہیں ہوتی، یعنی اس معاملے میں دونوں پارٹیاں کمزور ہیں”۔
ملائیشیان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں ٹی بی کے مریضوں کا علاج مفت ہوتا ہے۔
ڈاٹک”مریض کا تعلق انڈونیشیاءسے ہو، بنگلہ دیش، نیپال یا برما سے، ہم انہیں مفت علاج کی سہولت فراہم کرتے ہیں، جب یہ تارکین وطن صحت یاب ہوجاتے ہیں تو ہم انہیں واپس انکے ملک بھیج دیتے ہیں”۔
You may also like
- Solangi Inaugurates Media Training Program at Reactivated Pakistan Broadcasting Academy
- NACTA delegation, DG Information KP discuss media role in peace
- PEMRA to hold bidding for FM Radio licenses on Thursday
- Radio Pakistan achieves significant milestones in ‘digital migration’: Solangi
- Khyber Pakhtunkhwa minister opens podcast studio in UoP Journalism Dept
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | ||||||
| 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 |
| 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 |
| 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 |
| 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | |
