Cambodian Opposition Gear Up for Re-electionکمبوڈین سیاسی بحران

December 23, 2013

کمبوڈیا میں اپوزیشن جماعت نے آئندہ تین ماہ تک مبینہ انتخابی دھاندلیوں پر عام انتخابات دوبارہ کرانے کا مطالبہ منوانے کیلئے احتجاج کا منصوبہ بنایا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

پھنم پنھ کے فریڈم پارک میں نعرے لگارہے ہیں کہ وزیراعظم اپنی کرسی چھوڑ دو، تیس سالہ سرے لیپ دور دراز سے اس احتجاج میں شرکت کیلئے آئی ہیں۔

سرے لیپ “وزیراعظم ہوں سن کو اقتدار چھوڑنا پڑے گا کیونکہ ان کی قیادت میں کمبوڈین عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، عدالتی نظام میں انصاف نہیں ملتا اور ہمیں سابق آمر پول پاٹ کے دور جیسی سزائیں دی جاتی ہیں”۔

کئی ماہ سے اپوزیشن جماعت سی این آر پی مبینہ انتخابی دھاندلیوں کی آزادانہ تحقیقات کیلئے احتجاج کررہی ہے مگر اب تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آسکا، سی این آر پی نے اقوام متحدہ اور کمبوڈیا میں دیگر ممالک کے سفارتخانوں میں ایک پٹیشن جمع کرائی جس میں انتخابی بحران کے حل کیلئے عالمی مداخلت کی درخواست کی گئی، مگر اب اپوزیشن نے مختلف حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپوزیشن لیڈرسام رینسی نے دوبارہ انتخابات کیلئے روزانہ کی بنیاد پر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے، انھوں نے بھی وزیراعظم کو اپنا عہدہ چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔

سام رینسی”جب تک وزیراعظم اپنے عہدے پر رہیں گے، وہ زیادہ آمرانہ روئیے کا اظہار کرتے رہیں گے اور لوگ غریب سے غریب تر ہوتے چلے جائیں گے، اور انسانی حقوق سے محروم ہوتے جائیں گے”۔
ا
ب تک امریکہ اور یورپی یونین نے بھی جولائی میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا اور دونوں جماعتوں کو یہ مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔حکمران جماعت سی سی پی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن سے بات چیت کیلئے دروازے کھلے ہیں، مگر دوبارہ انتخابات نہیں کرائے جاسکتے۔پھائی سیپھن حکومتی ترجمان ہیں۔
پھائی سیپھن”ہم اپوزیشن کی جانب سے اپنے حفاظت کیلئے لوگوں کو شیلڈ کے طور پر استعمال کرتے نہیں دیکھنا چاہئے، وہ لوگوں کے خون کو اقتدار حاصل کرنے کیلئے استعمال کرنا چاہتی ہے، ہم ایسا نہیں دیکھنا چاہتے، ہمارے ملک میں قانون کی حکمرانی ہے، ہمارے اپنے انتخابی قوانین ہیں، اگر انہیں یہ پسند نہیں تو قومی اسمبلی میں جائیں اور ان میں ترامیم کریں، مگر سیاست کو گلیوں میں نہ لائیں”۔

انتظامیہ نے الزام لگایا ہے کہ سی این آر پی کے مظاہرے غیرقانونی ہیں اور وہ اس میں پیش آنیوالے کسی حادثے کی ذمہ دار نہیں ہوگی، اب تک مظاہروں کے دوران ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں، سماجی تجزیہ کارکم لے کا کہنا ہے کہ طویل المعیاد مظاہروں سے ملکی معیشت متاثر ہوسکتی ہے۔

کم لے”کچھ سرمایہ کار صورتحال کو دیکھ کر پہلے ہی ویت نام اور میانمار کا رخ کرچکے ہیں، دیگر بڑے سرمایہ کار بھی سیاسی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں، اگر اسکا کوئی حل نہ نکلا تو اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے، ملکی معاشی شرح نمو متاثرہوگی”۔

تاہم چھتیس سالہ سینگ کنٹھیا کو توقع ہے کہ اپوزیشن ملک میں روشنی کی ایک کرن پیدا کرے گی۔

سینگ کنٹھیا”میرا خاندان بہت خوش باش تھا مگر انتظامیہ نے ہماری زندگیاں مشکل بنادیں، امیر طبقہ امیر تر جبکہ غریب غریب تر ہوتے چلے جارہے ہیں،ہن سن نے غربت میں کمی کا وعدہ کیا تھا مگر اس کے برعکس اس نے غربت کی شرح میں مزید اضافہ کردیا، میں اس وقت بے گھر ہوں اور میں ہر شب اپنے حال پر روتی رہتی ہوں”۔

Category: Asia Calling | ایشیا کالنگ

Comments are closed.

burberry pas cher burberry soldes longchamp pas cher longchamp pas cher polo ralph lauren pas cher nike tn pas cher nike tn nike tn pas cher air max 90 pas cher air max pas cher roshe run pas cher nike huarache pas cher nike tn pas cher louboutin pas cher louboutin soldes mbt pas cher mbt pas cher hermes pas cher hollister pas cher hollister paris herve leger pas cher michael kors pas cher remy hair extensions clip in hair extensions mbt outlet vanessa bruno pas cher vanessa bruno pas cher vanessa bruno pas cher ralph lauren pas cher