Written by prs.adminMarch 29, 2013
Burmese Journalists Condemn Government’s Latest Attempt to Control Media – برمی میڈیا پر کنٹرول کیلئے قانون
Asia Calling | ایشیا کالنگ Article
برمی صحافیوں کو رواں برس جنوری میں سنسرشپ بورڈ کے خاتمے کے بعد سے کافی آزادی حاصل ہوگئی ہے، مگر حال ہی میں حکومت نے صحافت کے حوالے سے ایک نیا قانون پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
صحافیوں کی مختلف تنظیموں سے تعلق رکھنے والا ایک گروپ ایک بیان پڑھ کر سنا رہا ہے جس میں پرنٹنگ اور پبلکیشن کے حوالے سے نئے مجوزہ قانون کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حکومت کے اس قانون میں فوجی حکومت کے دور سے چلے آرہے آمرانہ قانون کو تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ سابق سیاسی قیدی اور صحافیذو تیت توے اس قانون کو حکومت کی جانب سے میڈیا پر کنٹرول کیلئے استعمال کیا جائے گا۔
ذو تیت توے”ہم وزارت اطلاعات سے رابطے میں ہیں، تاہم پارلیمنٹ میں نیا میڈیا قانون ہم سے مشاورت کے بغیر ہی پیش کردیا گیا۔ پارلیمنٹ نے اس مسودے کو قبول کرلیا ہے لہذا اسے کالعدم قرار دینا ناممکن ہوگیا ہے۔ آج ہم صحافی یہاں جمع ہوکر اس قانون کے کچھ حصوں میں نظرثانی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ہم اپنا یہ پیغام صدر اور پارلیمنٹ تک پہنچائیں گے”۔
اس نئے قانون میں ایسے مضامین کی اشاعت پر پابندی کی تجویز ہے جو قوانین کے عملدرآمد کو متاثر کریں، انتشار پھیلائیں یا آئین کے خلاف ہوں۔ اسی طرح تمام مضامین کی حکومت میں رجسٹریشن کرانا ہوگی یا چھ ماہ قید اور بارہ ہزار ڈالر کا جرمانہ بھرنا پڑے گا۔معروف سیاسی کارکن کُو پیون چو اس قانون کیخلاف مہم چلارہے ہیں۔
کُو پیون چا”ہم اس قانون سے مشکل میں پھنس جائیں گے، کیونکہ اس کے نفاذ کے بعد آئین پر تنقید پر پابندی لگادی جائے گی، اگر ہم ایک جمہوری معاشرے کا قیام چاہتے ہیں، تو کبھی کبھار اس کیلئے آئین پر تنقید ضروری ہوتی ہے۔ اگر وہ ہمیں ایسے مضامین کی اشاعت کی اجازت نہیں دیں گے تو ہمیں ہاتھوں سے لکھے گئے مضامین لوگوں میں تقسیم کرنا پڑیں گے”۔
صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ اسی صورت میں اس نئے قانون کو منظور کریں گے جب اس کا مسودہ برما پریس کونسل تیار کرے۔
پائے مینت اس کونسل کے سنیئر رکن ہیں، انکا کہان ہے کہ حکومتی قانون صحافیوں کو خاموش کرانے کیلئے پہلا قدم ہے۔
پائے مینت”اس مجوزہ قانون میں رجسٹریشن افسران کو لائسنس جاری کرنے سے پہلے کسی بھی مضمون کی جانچ پڑتال کا حق دیا گیا ہے، یہ حکومتی افسران کا نہیں بلکہ عدالتوں کا کام ہے۔ قانونی ماہرین نے اسے آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ قانون آئین کے خلاف ہیں”۔
برما میں فوجی دور میں صحافتی آزادی ختم کردی گئی تھی، پائے مینت کا کہنا ہے کہ اگر برما اگر واقعی حقیقی جمہوری ریاست بن چکا ہے تو اسے پریس کو آزادی دینا ہوگی۔
پائے مینت” 1962ءکا میڈیا قانون انتہائی خوفناک تھا، اس کی وجہ سے ہم اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں لکھ سکتا، موجود بل اس کے مقابلے میں کافی نرم ضرور ہے مگر اس میں بھی میڈیا پر کافی پابندیاں برقرار رکھی گئی ہیں۔ ہم اب میڈیا کو دبانے والا قانون مزید برداشت نہیں کریں گے”۔
You may also like
- Solangi Inaugurates Media Training Program at Reactivated Pakistan Broadcasting Academy
- NACTA delegation, DG Information KP discuss media role in peace
- PEMRA to hold bidding for FM Radio licenses on Thursday
- Radio Pakistan achieves significant milestones in ‘digital migration’: Solangi
- Khyber Pakhtunkhwa minister opens podcast studio in UoP Journalism Dept
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | ||||||
| 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 |
| 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 |
| 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 |
| 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | |
