‘Breathing is no longer possible’ Pakistan’s Factory Fire Victims Remembered – سانحہ بلدیہ ٹاﺅن

September 25, 2013

پاکستان کے بدترین صنعتی سانحے کو ایک برس گزر گیا، گزشتہ سال ستمبر میں کراچی کی علی انٹرپرائز گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگنے سے ڈھائی سو کے قریب افراد جاں بحق ہوگئے تھے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

یہ دعا، یاد کرنے اور اشک بہانے کا وقت ہے، شمعیں جلائی جارہی ہیں اور پیاروں کی تصاویر پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جارہی ہیں۔

گزشتہ سال ستمبر میں کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاﺅن میں ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے ڈھائی سو سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے، جن میں سے بیشتر اپنے خاندانوں کو واحد کفیل تھے۔

ترپن سالہ الزبتھ جارج اس سانحے کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر گرجا گھر میں عبادت کررہی ہیں، ان کے اٹھائیس سالہ بیٹے سعید جارج اس بری طرح جل گیا تھا کہ اس کی شناخت ہی مشکل ہوگئی تھی۔

الزبتھ”میرے بیٹے نے اسکول اس وقت چھوڑا جب وہ ساتویں جماعت میں تھا، تاکہ وہ کام کرکے میری اور اپنی بہن کی کفالت کرسکے، اس کے والد منشیات کے عادی اور بیروزگار ہیں، سعید پرعزم تھا کہ وہ ہمیں غربت سے نکالنے میں کامیاب رہے گا”۔

اس چھوٹے سے گھر میں سعید کے والدین، دو چچا، دو کزن اور ان کے خاندان اکھٹے رہ رہے ہیں۔

سعید کی چھوٹی بہن ماریہ بھائی کی کمی بہت بری طرح محسوس کرتی ہے۔

ماریہ”میں ان کی ضرورت ہر جگہ محسوس کرتی ہوں، میری خواہش ہے کہ وہ ہمارے ساتھ موجود ہوتے، جب بھی ہمیں گھر میں کسی قسم کے ہنگامی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے یا کوئی بیمار ہوتا ہے تو ہمیں انہیں بہت یاد کرتے ہیں”۔

سعید کے کزن خرم لازارس وہ آخری شخص تھا جس نے اس سے بات کی تھی، خرم نے سعید کو موبائل فون پر کال کی تھی۔

خرم”اس نے کہا کہ سانس لینا اب ناممکن ہوتا جارہا ہے، ہر جگہ بہت زیادہ آگ اور دھواں ہے، میں ہر ایک سے اپنے غلطیوں پر معافی مانگتا ہوں”۔

سعیدکی لاش کی تلاش کیلئے اس کے پیاروں نے ہفتوں ہسپتالوں اور مردہ خانوں کے چکر لگائے، تاہم سترہ ناقابل شناخت لاشیں اکھٹی دفن کی گئیں، جن میں سے ایک سعید کی بھی تھی۔

ماریہ”ہم انہیں اپنے ہاتھوں دفن نہیں کرسکے، ہمارے دل کا سکون ختم ہوچکا ہے، دیگر افراد نے اپنے پیاروں کو خود دفن کیا مگر ہم ایسا نہ کرسکے”۔

اس فیکٹری میں اس وقت آگ لگی جب بوائلر پھٹ گیا اور ذخیرہ کئے گئے کیمیکلز کے باعث آگ کی شدت بڑھتی چلی گئی، اس وقت فیکٹری میں تین سے چار سو ورکرز موجود تھے، سماجی کارکن جیسے فرحت پروین کا کہنا ہے کہ فیکٹری انتظامات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ایسا سانحہ ہونا ہی تھا۔

پروین”علی انٹرپرائز میں کوئی فائر الارم نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ اوپر اور نیچے موجود ڈیپارٹمنٹس کو فیکٹری میں لگنے والی آگ کا علم ہی نہیں ہوسکا، اور یہی بات اتنی زیادہ ہلاکتوں کی وجہ بھی بنی”۔

فیکٹری کے مالک کیخلاف فوجداری مقدمے کی سماعت سندھ ہائیکورٹ مین جاری ہے، عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت پر رہا کردیا ہے، جبکہ ان پر عائد الزامات پر بھی سے قتل کا الزام ہٹادیا گیا ہے۔ شازیہ ہنجرا سرکاری پراسیکیوٹر ہیں۔

شازیہ”سمجھا جاتا ہے کہ ہر مقدمے میں پولیس ملزم نہیں بلکہ ریاست کیلئے کام کرتی ہے، مگر اس مقدمے میں پولیس نے ملزمان کی حمایت کی ہے”۔

دیگر متاثرین کی طرح سعید کے خاندان کو بھی مقدمے سے زیادہ توقعات نہیں،ابھی ان کی ساری توجہ اپنی بقاءپر مرکوز ہے۔

Category: Asia Calling | ایشیا کالنگ

Comments are closed.

burberry pas cher burberry soldes longchamp pas cher longchamp pas cher polo ralph lauren pas cher nike tn pas cher nike tn nike tn pas cher air max 90 pas cher air max pas cher roshe run pas cher nike huarache pas cher nike tn pas cher louboutin pas cher louboutin soldes mbt pas cher mbt pas cher hermes pas cher hollister pas cher hollister paris herve leger pas cher michael kors pas cher remy hair extensions clip in hair extensions mbt outlet vanessa bruno pas cher vanessa bruno pas cher vanessa bruno pas cher ralph lauren pas cher