Written by prs.adminApril 29, 2013
Aleta Ba’un, the Indonesian ‘Avatar’ – الییتا باﺅن ، انڈونیشین اوتار
Asia Calling | ایشیا کالنگ Article
انڈونیشیاءکی ایلیتا باون کو حال ہی میں نچلی سطح پر ماحولیاتی مہم چلانے پر گولڈ مین پرائز کے معتبر اعزاز سے نوازا گیا، مشرقی انڈونیشیاءکے ایک جزیرے، جو خام تیل، گیس، سونے اور سنگ مرمر سے مالامال ہے، سے انکا تعلق ہے۔ انہیں ماحولیات اور اپنے قبیلے موئلو کی ثقافت کے تحفظ کیلئے کوششوں پر یہ اعزاز دیا گیا ھتا۔ اسی بارے میں سنتے ہیں کی آج کی رپورٹ
ایلیتا باون باورچی خانے میں کھانا بنارہی ہیں، ان کی سات سالہ بیٹی بھی اپنی سہیلیوں کے ساتھ ان کی مدد کررہی ہے۔ تاہم چند برس قبل یہاں زندگی اتنی پرسکون نہ تھی، اس وقت ایلیتا باون اپنے تین بچوں کے ہمراہ ایک جنگل میں چھپی ہوئی تھیں۔
الیتا باون”ایک ماں ہونے کی وجہ سے میں بہت اداس اور خوفزدہ رہتی تھی، جسکی وجہ اپنی بیٹی کو اس جنگل میں چھپانا تھا۔ میں بہت دکھی تھی اور چاہتی تھی کہ وہ گھر واپس جاسکے”۔
ایلیتا اپنے قبیلے کی زمینوں کو تباہ ہونے سے بچانے کے لئے کان کن کمپنیوں کیخلاف احتجاج کررہی تھیں اور اسی وجہ سے انہیں ہدف بنایا گیا۔ 1996ءمیں دو ماربل کمپنیاں ان کے گاﺅں میں آئیں اور علاقے کی مقدس ترین سمجھی جانی والی پہاڑی نوسس میں کان کنی شروع کردی۔یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ ایلیتا باون کے علاقے میں کان کن کمپنیوں نے کام کیا ہو، اس سے قبل 1980ءکی دہائی میں بھی ایسا ہوچکا تھا۔
ایلیتا باون”ہمارا گاﺅں تباہ ہوچکا تھا، ہم اپنے جنگل سے محروم ہوچکے تھے اور پانی کی سپلائی کم ہوگئی تھی، جبکہ لینڈ سلائیڈ معمول بن چکی تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے انیس سو ننانوے میں کچھ قبائلی رہنماﺅں کے ساتھ ملکر کان کن کمپنیوں کیخلاف جدوجہد شروع کی”۔
ایلیتا باون نے تین افراد کے ساتھ ملکر مقامی سطح پر ماحولیاتی تحریک شروع کی، جسے آہستہ آہستہ قبائلی بزرگوں کی حمایت ملتی گئی۔ ویلیم بائساتو بھی ایسے ہی ایک قبائلی رہنماءہیں۔
ویلیم”یہاں کے ہر شخص کے فارم پہاڑیوں کے گرد ہےں، ہم یہاں کا ماحول تباہ نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ایسا ہوا تو ہم کیسے زندہ رہیں گے؟ پھر ہم کھائیں گے کیا؟”
یہ قبائل اپنے علاقے کی فطرت کو انسانی جسم جیسا سمجھتے ہیں، وہ درختوں کو بال اور کھال سمجھتے ہیں، جبکہ پانی ان کی نظر میں خون جیسا ہے، اسی طرح زمین کو گوشت اور پتھروں کو ہڈیاں مانتے ہیں۔ یہ احتجاج آہستہ آہستہ شدت پکڑتا گیا، ایلیتا نے ہمیں اپنی جدوجہد کی ایک پرانی وڈیو بھی دکھائی، جس میں وہ مقامی حکومتی دفتر کے سامنے احتجاج کی قیادت کررہی تھیں۔
الیتا “میں یہاں کھڑی ہوں اور میں پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں۔ میں ضلع کے سربراہ سے اپنے احتجاج پر معذرت کرتی ہوں مگر انہیں ہمارے ماحولیاتی نظام کو دیکھنا چاہئے، ہم کسی صورت اپنی زمین سے دستبردار نہیں ہوں گے”۔
تاہم کان کن کمپنیوں نے اس احتجاج پر سخت ردعمل ظاہر کیا، انھوں نے گاﺅں میں غنڈوں کے ذریعے مظاہرین کو دھمکیاں دیں، جبکہ الیتاکے گھر پر پتھراﺅ کیا گیا، جس کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ گھر چھوڑ کر جنگل میں مقیم ہوگئیں، مگر انھوں نے اپنا کام روکا نہیں۔
الیتا”ہم کئی کئی کلومیٹر پیدل چل کر دوسرے دیہات تک جاکر اپنا پیغام پہنچاتے، ہمارے پاس کھانے کیلئے کچھ نہیں تھا اور ہمیں لوگ جو دیتے ہم وہ کھا لیتے۔ وہ بہت مشکل وقت تھا اس وقت ہمیں جان سے مارے جانے کی دھمکیاں بھی مل رہی تھیں”۔
کان کن کمپنیوں کیخلاف اس جدوجہد نے ایلیتاکوموئلو قبیلے کی نظر میں ہیرو بنا دیا اور انہیںماما ایلیتا کا لقب دیا گیا۔ایلیتاکے شوہر لفٹس صنم نے اس جدوجہد میں اپنی بیوی کی حمایت کی، انھوں نے رات رات بھر جاگ کر اپنے گھر کی حفاظت کی۔
لفٹس”میں نہیں جانتا تھا کہ یہ کون لوگ ہیں جو رات کی تاریکی میں ہمارے گھر پر حملہ کرتے ہیں۔ کئی ماہ تک ہر شب میں اپنے گھر کی نگہبانی کرتا رہا۔ میں نے ان لوگوں پر پتھر مارے اور جب بھی انھوں نے مجھ پر حملہ کیا تو میں نے اس کا موثر جواب دیا”۔
ہینڈرک ری ہی ،ایلیتا کے بہترین دوستوں میں شامل ہیں۔
ری ہی “اس وقت متعدد افراد ایلیتاکو اپنا سربراہ بنانا چاہتے ہیں، حالانکہ ماضی میں ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب ہم لوگ اپنے گاﺅں واپس آئے تو ہم پر حملہ کیا گیا۔ جسکی وجہ سے ماما ایلیتاجنگل میں چھپنے پر مجبور ہوگئیں۔ ایک حملہ آور کا کہنا تھا کہ ایلیتاہمارا ہدف ہے، اسے ہم ہر حال میں قتل کریں گے”۔
دو ہزار چھ میں ایلیتانے عطائے میمس انڈیجینس ٓرگنائزیشن قائم کی، جس کا مقصد مقامی زبان کو بچانا اور اسے توسیع دینا تھا، اس ادارے میں سینکڑوں قبائلی برادریاں شامل ہوگئیں تاکہ اپنے علاقوں کے ماحولیاتی نظام کو لاحق خطرات سے نمٹا جاسکے۔
دوہزار چھ میں سینکڑوں خواتین نے سنگ مرمر کی کانوں پر قبضہ کرکے وہاں اپنے روایتی ملبوسات تیار کرنا شروع کردیئے، جبکہ ان کے شوہر یا والد وغیرہ وہاں محافظ کے طور پر موجود رہے۔ یہ تحریک چار ماہ تک جاری رہی اور اس نے کان کن کمپنیوں کو کام روکنے پر مجبور کردیا۔ الیزبتھ اوئے ماتن جب اس جدوجہد کا حصہ بنی تو وہ حاملہ تھیں۔
الیزبیتھ”ہم ایک مقام پر بیٹھ کر دن رات سلائی کا کام کرتے تھے، اس کے بعد ہم نے گورنر کے دفتر کی جانب مارچ کیا اور حکومت سے کان کنی کا لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہم اپنے علاقے میں کان کن کمپنیوں کو نہیں چاہتے، ہم اپنے پہاڑوں کا تحفظ چاہتے ہیں”۔
دو سال قبل اس جدوجہد کے نتیجے میں چار کان کن کمپنیوں علاقے سے نکلنا پڑا، ایلیتااس بارے میں بتارہی ہیں۔
ایلیتا”ہم جیت گئے اور کان کن کمپنیاں واپس چلیں گی ، تاہم ان کے پاس اب بھی کان کنی کا اجازت نامہ موجود ہے، مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اس علاقے سے چلی گئی ہیں۔ ہم ان کی واپسی کے باوجود اپنی تحریک کو جاری رکھیں گے”۔
اس علاقے کے پانچ دیہات نے ایک مشترکہ نقشہ تیار کیا، جسکا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ ان کی ملکیت میں کون سی زمین ہے، اس نقشے کی ماحولیاتی اور دیہی ترقی کے وزیر نے توثیق بھی کی، تاہم علاقے کو نقصان پہنچنے کا عمل رک نہیں سکا ۔
یہ گیت جسے نائتا پان راکس کا نام دیا گیا ہے، یہ ایک ایسے پہاڑ کا نام ہے جہاں کان کنی کا عمل اسکی تباہی تک نہیں رک سکا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ ایلیتاکی جدوجہد ختم نہیں ہوئی ہے اور حال ہی میں ایک اجلاس کے دوران انھوں نے اپنے علاقے کے قریب رہائش پذیر پبابو قبیلے پر اپنی زمین کے تحفظ کیلئے زور ڈالا۔مقامی حکومت نے اس قبیلے کے جنگل کو ایک آئل کمپنی کے لئے مختص کردیا ہے۔
ایلیتا”اگر آئل کمپنی یہاں آئی تو ہم سب یہاں آپ کے پاس موجود ہوں گے، ہم خوفزدہ نہیں اور نہ ہی ہم کسی اور ملک سے یہاں آئے ہیں۔ ہم یہاں پیدا ہوئے پلے بڑھے اور ہمارے بزرگوں نے ہماری زمین اور دیہات کو ترقی دی۔ اگر یہاں تباہی ہوتی ہے تو اسکے ذمہ دار ہم ہوں گے”۔
بیس سالہ لودیانا کابا،ایلیتاکے ادارے کی رکن ہیں۔
لودینا”میرا ماننا ہے کہ خواتین امن لاسکتی ہیں، ماما ایلیتا نے ہم پر ثابت کیا ہے کہ خواتین ہمارے معاشرتی تنازعات کو حل کرسکتی ہیں، میں بھی ایک دن اس جیسا بننے کا خواب دیکھتی ہوں”۔
You may also like
- Solangi Inaugurates Media Training Program at Reactivated Pakistan Broadcasting Academy
- NACTA delegation, DG Information KP discuss media role in peace
- PEMRA to hold bidding for FM Radio licenses on Thursday
- Radio Pakistan achieves significant milestones in ‘digital migration’: Solangi
- Khyber Pakhtunkhwa minister opens podcast studio in UoP Journalism Dept
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | 2 | 3 | 4 | |||
| 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 |
| 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 |
| 19 | 20 | 21 | 22 | 23 | 24 | 25 |
| 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | |
