Afghan Soap Opera Challenges Taboos – افغان ڈرامہ

June 3, 2013

افغانستان کی ٹی وی صنعت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، تاہم بیشتر چینیلز پر بھارت، ترکی اور جنوبی کوریا وغیرہ سے درآمد شدہ ڈراموں کی بھرمار ہے، مگر یونیورسٹی ایف ایم ایک افغان سوپ اوپرا ہے، جس میں تمام معاشرتی پابندیوں کو پیچھے چھوڑ کر مختلف حساس موضوعات کو اٹھایا جارہا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

سائلنٹ وائس یا خاموش آواز نامی افغانی ڈرامہ کی نئی سیریز ٹی وی پر نشر ہورہی ہے، اس ڈرامے کا پہلا سیزن یونیورسٹی ایف ایم کے نام سے نشر ہوا تھا، جس میں افغان نوجوانوں کی زندگیوں اور ان کو درپیش مسائل کی عکاسی کی گئی تھی۔ اب اس نئے نام کے ساتھ ڈرامے کے ڈائریکٹر نوراللہ عزیزی کا کہنا ہے کہ ہمیں موضوع کے ساتھ چند چیلنجز کا سامنا ہے۔

نور اللہ”نئی سیریز میں سابقہ قسطوں میں دکھائے جانے والے طالبعلم اب یونیورسٹیوں سے ڈگری لیکر اچھی ملازمتیں کرتے نظر آئیں گے، تاہم کچھ خواتین طالبات کو ان کے گھروالوں کی جانب سے کام کرنے کی اجازت نہیں۔ ہم نے ایسے خواتین کردار تیار کئے ہیں جو اپنے خاندانوں کو قائل کررہے ہیں کہ انہیں ملازمت کی اجازت دی جائے۔ اس ڈرامے کا بنیادی مقصد ناظرین کو علم کی اہمیت اور خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کے لئے لوگوں کا شعور اجاگر کرنا ہے”۔

تیئیس سالہ نسیمہ ہاشمی اس ڈرامے کی ایک بڑی پرستار ہیں، انکا کہنا ہے کہ اس ڈرامے میں افغان معاشرے کا عکس دکھایا جارہا ہے۔

نسیمہ ہاشمی”اس سوپ اوپرا میں ہمارے معاشرے کو مثبت پیغام دیا جارہا ہے، یہ ہمارے شہریوں کیلئے بہت اچھا ہے، یہ ہمارے ٹی وی چینلز پر چلنے والے درآمدی ڈراموں کے مقابلے میں اچھا انتخاب ہے”۔

اگرچہ یہ ڈرامہ دیگر درآمدی ڈراموں جتنا مقبول تو نہیں مگر پھر بھی اسے اچھی ریٹنگ مل رہی ہے، ہر ہفتے کم از کم ایک لاکھ افراد اسے دیکھتے ہیں۔ یہ دعویٰ سید رامین سعادت کا ہے جو ایک پروڈکشن کمپنی میں کام کرتے ہیں۔

سید رامین”ہمارے ملک میں تین دہائیوں سے خانہ جنگی جاری ہے، ہماری صورتحال دیگر ممالک جیسی اچھی نہیں، مگر میرے خیال میں ہم اپنے سینماءمیں قابل قدر کام کررہے ہیں۔ غیر ملکی فلمی صنعتوں کو زیادہ بجٹ اور پیشہ ور فنکاروں کی خدمات حاصل ہے، جس سے ہم محروم ہیں”۔

مگر افغانستان میں متعدد حلقے اداکاراﺅں کو طوائف سمجھتے ہیں اور اس ڈرامے پر کافی اشتعال بھی نظر آرہا ہے۔ 36 سالہ نازیفا محمدی نے اس ڈرامے میں ایک غریب ماں کا کردار ادا کیا ہے جو اپنے بچوں کی پرورش کیلئے جدوجہد کرتی نظر آتی ہے۔

ڈرامے کے سیٹ پر وہ اعتراف کررہی ہیں کہ وہ اپنی سلامتی کے حوالے سے فکرمند ہیں۔

نازیفا”میں اس کام سے بہت خوش ہوں، مگر اس کے ساتھ ساتھ مجھے ہر وقت اپنی سیکیورٹی کی بھی فکر رہتی ہے۔ مجھے متعدد بار دھمکیاں مل چکی ہیں، اسی طرح پہلے تو میرے شوہر کا خاندان بھی مجھے ڈرامے میں کام کرنے کی اجازت دینے کیلئے تیار نہیں تھا، میری خواتین ساتھیوں کو دیگر افراد نے ہراساں کیا ہے، جبکہ ان کے خاندان بھی ان پر پابندیاں لگاتے رہتے ہیں”۔

ڈرامے کی ایک اور اداکارہ نسرین حسنی کو چار ماہ قبل قتل کی دھمکی مل تھی، کسی شخص نے فون کرکے انہیں قتل کرنے کی دھمکی دی، تاہم وہ اپنے کام سے دستبردار نہیں ہوئی اور وہ اداکاری کو جاری رکھنا چاہتی ہیں۔

نسرین”میں اس صنعت میں تیرہ سال سے کام کررہی ہوں، جس میں سے دس سال افغانستان میں کام کرتے ہوئے گزرے ہیں، میں اپنے کام سے خوش ہوں اور اسے جاری رکھنا چاہتی ہوں”۔

Category: Asia Calling | ایشیا کالنگ

Comments are closed.

burberry pas cher burberry soldes longchamp pas cher longchamp pas cher polo ralph lauren pas cher nike tn pas cher nike tn nike tn pas cher air max 90 pas cher air max pas cher roshe run pas cher nike huarache pas cher nike tn pas cher louboutin pas cher louboutin soldes mbt pas cher mbt pas cher hermes pas cher hollister pas cher hollister paris herve leger pas cher michael kors pas cher remy hair extensions clip in hair extensions mbt outlet vanessa bruno pas cher vanessa bruno pas cher vanessa bruno pas cher ralph lauren pas cher