A Free School for Pakistani Girls – پاکستانی بچیوں کیلئے مفت اسکول

December 15, 2013

پاکستان کی تین فیصد سے بھی کم خواتین کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل ہوتی ہے، پرائمری تعلیم کے بعد اسکولوں سے لڑکیوں کے اخراج کی شرح بہت زیادہ ہے، ایلیزا بروہی اس رجحان میں تبدیلی کیلئے لڑکیوں کیلئے ایک مفت اسکول کیساتھ سرگرم عمل ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

چوبیس سالہ ایلیزا بروہی نے چار سال قبل پڑھانا شروع کیا تھا، شروع میں اس اسکول میں انکے خاندان کی گھریلو ملازمائیں، ڈرائیورز اور ایسے ہی افراد کے بچے اسکول میں داخل ہوئے، تاہم آہستہ آہستہ بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

اب وہ مفت اسکول سیونگ دی فیو چر چلارہی ہیں، جس میں پانچ سے پندرہ سال کی عمر کی سو سے زائد بچیاں زیرتعلیم ہیں، یہ اسکول کراچی کے نواح میں واقع عیدو گوٹھ میں واقع ہے، تاہم شروع میں ایلیزا کیلئے سب سے بڑی مشکل والدین کو اپنی بچیاں اسکول بھیجنے کیلئے تیار کرنا تھا۔

ایلیزا”اگر کوئی بچیوں کو مفت تعلیم دینا چاہتا ہے تو اس پر کئی طرح کے شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ شروع میں جو پچیس بچیاں یہاں آنا شروع ہوئیں انہیں روک دیا گیا”۔

صغراں بی بی کی دو بیٹیاں اسکول میں پڑھ رہی ہیں، انکا کہنا تھا کہ شروع میں بہت زیادہ افواہیں پھیلی ہوئی تھیں۔

صغراں”ہمارے گاﺅں کے لوگوں کا کہنا تھا کہ بچے وہاں گم ہوجائیں گے، انہیں کوئی اغوا کرلے گا، میں نے ان پر اعتماد نہیں کیا اور اپنے شوہر سے کہا کہ میں اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتی ہوں، اور میں انہیں اسکول جانے سے نہیں روکوں گی”۔

لوگوں کو قائل کرنے کیلئے ایلیزا نے مقامی بزرگ خاتون مائی مریم سے مدد طلب کی۔

مائی مریم”میں نے لوگوں کو بتایا کہ اس اسکول میں سب کچھ مفت ہے، ہم ایلیزا کیساتھ گھر گھر گئے اور اب اللہ کا شکر ہے کہ کافی تعداد میں بچے یہاں پڑھ رہے ہیں”۔

دس سالہ شاہین اس سے پہلے اسکول نہیں جاتی تھی کیونکہ اس کے والدین تعلیمی اخراجات کا بار اٹھانے کے قابل نہیں تھے۔

شاہین”یہاں کا عملہ اور ماحول بہت زبردست ہے، میں پڑھنا چاہتی ہوں اور پولیس انسپکٹر بننا چاہتی ہوں”۔

پاکستانی معاشرے میں روایتی طور پر لڑکیوں کی تعلیم کی زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی، دیہی علاقوں میں اکثر لڑکیوں کی شادیاں ہی پندرہ سال کی عمر تک ہوجاتی ہیں، جبکہ تین فیصد سے بھی کم خواتین کو اعلیٰ تعلیمی اداروں تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔

سب سے پہلے ایلیزا کے والد نے اس اسکول کیلئے فنڈ قائم کیا، عبدالرزاق پاکستان اسٹیل مل کے سابق ڈائریکٹر ہیں۔

عبدالرزاق”میں نے اپنے گاﺅں میں دیکھا تھا کہ خواتین کی حالت بہت کمزور ہے، لوگ خود کو بہادر اور فخرمند سمجھتے ہیں، مگر میں ان سے پوچھتا ہوں کہ انہیں پیدا کس نے کیا؟ تو میں نے انہیں بتایا کہ اپنی بیٹیوں سے بھی بیٹوں کی طرح محبت کرے اور احترام دیں، یہ چھوٹی بچپیاں ہی ہماری قوم کی مائیں بنیں گی”۔

ایلیزا نے سوشل میڈیا پر اپنے اسکول کیلئے فنڈز جمع کرنے کی مہم چلائی، سینٹر فار انٹرنیشنل پرائیویٹ انٹر پرائزز کے ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر حماد صدیقی بھی اس اسکول کی مدد کیلئے آگے آئے ہیں۔

حماد”نوے سے زائد لڑکیوں کو سوشل میڈیا مہم کے ذریعے اسپانسر شپ ملی ہے، اس کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ان بچیوں سے کبھی نہیں ملے اور نہ ہی ہم انہیں جانتے ہیں، مگر اس نیک مقصد کیلئے یہ لوگ آگے آئے اور امداد دی”۔

ایلیزا کیلئے ان بچیوں میں خوداعتمادی پیدا کرنا اولین ترجیح ہے۔

ایلیزا”ہم انہیں آگے بڑھانا چاہتے ہیں، اسکول آنے سے پہلے بیشتر بچیاں گلیوں میں بھیک مانگتی تھیں، گھروں میں کام کرتی تھیں یا ہر وقت گلیوں میں کھیلتی رہتی تھیں۔ انہیں ہر طرح کے مظالم کا سامنا تھا، ہم انہیں اچھا ماحول فراہم کرنا چاہتے ہیں اور انہیں یقین دلانا ہے کہ اپنے غریب والدین کے مقابلے میں ان کا مستقبل روشن ہے”۔

Category: Asia Calling | ایشیا کالنگ

Comments are closed.

burberry pas cher burberry soldes longchamp pas cher longchamp pas cher polo ralph lauren pas cher nike tn pas cher nike tn nike tn pas cher air max 90 pas cher air max pas cher roshe run pas cher nike huarache pas cher nike tn pas cher louboutin pas cher louboutin soldes mbt pas cher mbt pas cher hermes pas cher hollister pas cher hollister paris herve leger pas cher michael kors pas cher remy hair extensions clip in hair extensions mbt outlet vanessa bruno pas cher vanessa bruno pas cher vanessa bruno pas cher ralph lauren pas cher