Written by prs.adminMarch 15, 2013
Long Quest for Justice for Indian Women – بھارتی خواتین کی انصاف کیلئے جدوجہد
Asia Calling | ایشیا کالنگ Article
گزشتہ ہفتے دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا، تاہم بھارت میں صنف نازک تاحال اپنے تحفظ کیلئے جدوجہد میں مصروف ہے۔ آئین میں خواتین کو مساوی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے، تاہم اس ملک میں ہر گھنٹے میں دو خواتین جنسی زیادتی کا شکار ہوجاتی ہیں۔
بتیس سالہ جگجیت کور نئی دہلی کی جنترمنتر گلی میں لگائے گئے ایک چھوٹے سے خیمے میں لیٹی ہوئی ہیں، درجنوں اخبارات میں ان کے بارے میں خبر صفحہ اول پر چھپی ہے، جگجیت کورکو بھوک ہڑتال پر ہیں اور اس کو ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ جگجیت کورکا کہنا ہے کہ انہیں پنجاب کے ایک پولیس اسٹیشن میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
جگجیت کور “ میں پولیس اسٹیشن میں اپنے گھر میں ہونیوالی چوری کی رپورٹ درج کرانے گئی تھی، ایک پولیس اہلکار نے مجھے چائے کا کپ دیا اور پھر اس نے دفتر کا دروازہ بند کردیا، اس نے مجھے برہنہ کی کوشش کی، جس پر میں مدد کیلئے چلانے لگی۔ اس وقت دو دیہاتی میری مدد کیلئے پہنچے تاہم ان پر تشدد کیا گیا اور حوالات میں بند کردیا گیا۔ اس کے بعد پولیس اہلکاروں نے میرے ساتھ زیادتی کی، اور جب میں جانے لگی تو پولیس والوں نے مجھے لاٹھیوں سے مارا جس سے میرا بازو ٹوٹ گیا۔ وہ اس وقت تک نہیں رکے جب تک میں بے ہوش نہیں ہوگئی”۔
یہ واقعہ تین سال قبل پیش آیا تھا، تاہم وہ اب تک اپنا مقدمہ درج نہیں کراسکی ہیں۔
جگجیت کور” میں نے دھرنے دیئے، پولیس حکام اور مقامی انتظامیہ کو شکایتی مراسلے بھیجے، عدالتوں کے چکر لگائے مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ میں نے وزیراعظم اور سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کو بھی خطوط لکھے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اب میں دارالحکومت میں آکر انصاف کا مطالبہ کررہی ہوں”۔
تاہم اب تک ان کے احتجاج پر حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
جگجیت کور” میں کافی دن سے بھوک ہڑتال پر ہوں، مگر لگتا ہے کہ کسی کو میری پروا ہی نہیں۔ اگر مجھے ریاستی حکومت سے انصاف نہیں مل سکتا، یا مرکزی حکومت مجھے انصاف نہیں دے سکتی، تو پھر میں کہاں سے انصاف حاصل کروں؟ آخر خواتین کا قومی کمیشن کہاں ہے؟ نیشنل ہیومین رائٹس کمیشن کہاں ہے؟ کیا وہ مجھے دہشتگرد بنانا چاہتے ہیں؟ اگر میں انصاف طلب کروں تو وہ مجھے مار دیتے ہیں یا میں ان سب کو مار دیتی ہوں”۔
انصاف کی تلاش میں صرف جگجیت کورہی جدوجہد نہیں کررہی۔
پچپن سالہ سہیب سنگھ نئی دہلی کے نواح میں رہائش پذیر ہیں، ان کی اٹھارہ سالہ بیٹی کو 2009ءمیں مقامی کونسلر نے اس وقت زیادتی کا نشانہ بنایا، جب سہیب سنگھ نے اس سے اپنی بیٹی کی شادی کرنے سے انکار کردیا۔ رواں برس کے شروع میں اسی کونسلر کے غنڈوں نے سہیب سنگھ کی بیوی پر جنسی حملہ کیا۔ انکا کہنا ہے کہ پولیس ان ملزمان کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کررہی۔
سہیب سنگھ” جہاں تک میری بیوی کے مقدمے کا تعلق ہے، پولیس نے اسے رجسٹر تو کرلیا ہے تاہم یہ صرف کاغذی کارروائی ہے، کیونکہ اس حوالے سے مزید تفتیش نہیں ہوئی۔ یہ غنڈے بہت بااثر ہیں اور وہ آزاد گھوم رہے ہیں۔ یہاں تک کہ انھوں نے مجھے پر بھی حملہ کیا، مگر پولیس نے کچھ نہیں کیا۔ ہم حکومت سے تحفظ اور پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں”۔
نئی دہلی میں گزشتہ سال دسمبر میں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد سے ملک بھر میں جنسی تشدد کیخلاف احتجاج جاری ہے، حکومت نے خواتین کے خلاف جنسی جرائم پر قابو پانے کیلئے مزید اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت کچھ کیسز میں ملزمان کو سزائے موت کا حقدار ٹھہرانا بھی شامل ہے۔ گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں نئے مالی سال کا بجٹ پیش کیا گیا، اس کے علاوہ حکومت نے خواتین کے تحفظ کیلئے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا، جسے نربھیا فنڈ کا نام دیا گیا۔پی چدم برم وزیر خزانہ ہیں۔
چدم برم” ہم اپنی لڑکیوں اور مردوں کے ساتھ کھڑے ہیں، اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ انہیں بااختیار بنانے، محفوظ اور تحفظ دینے کی ہرممکن کوشش کریں گے۔ اس سلسلے میں متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں اور مزید پر حکومت اور غیر سرکاری ادارے غور کررہے ہیں”۔
تاہم مظاہرین ان اقدامات سے مطمئن نظر نہیں آتے۔
درجنوں افراد ملکی فوجداری نظام انصاف کے پتلے جلارہے ہیں، وہ نعرے لگارہے ہیں کہ نظام مرچکا ہے یہی وجہ ہے کہ جرائم
بڑھ رہے ہیں۔ رگھو ویر شرماگزشتہ سال دسمبر سے جنتر منتر گلی میں جاری اس احتجاج میں شریک ہیں۔
رگھو ویر شرما” ہماری جدوجہد انصاف کیلئے ہے، یہ بیمار نظام کو تبدیل کرنے کے لئے ہے۔ ہمیں اس نظام کے باعث بہت سی مشکلات کا سامنا ہوا ہے، تاہم اب ہم اسے برداشت نہیں کریں گے اور تبدیلی لازمی آئے گی۔جب تک نظام میں کوئی ٹھوس تبدیلی نہیں آتی ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ ہمارا احتجاج حکومت یا کسی مخصوص پارٹی کے خلاف نہیں، بلکہ یہ پورے نظام کے خلاف ہے، اور جب تک ہمارے مقاصد حاصل نہیں ہوجائیں گے کوئی بھی شخص یہاں سے گھر واپس نہیں جائے گا”۔
You may also like
Archives
- March 2024
- February 2024
- January 2024
- September 2023
- July 2023
- March 2023
- February 2023
- January 2023
- April 2022
- March 2022
- February 2022
- September 2021
- August 2021
- July 2021
- April 2021
- February 2021
- June 2020
- May 2020
- April 2020
- March 2020
- February 2020
- December 2019
- October 2019
- September 2019
- August 2019
- July 2019
- May 2019
- April 2019
- March 2019
- February 2019
- January 2019
- December 2018
- November 2018
- October 2018
- September 2018
- August 2018
- June 2018
- December 2017
- November 2017
- October 2017
- September 2017
- March 2017
- February 2017
- November 2016
- October 2016
- September 2016
- July 2016
- June 2016
- April 2016
- March 2016
- February 2016
- January 2016
- December 2015
- November 2015
- October 2015
- September 2015
- August 2015
- June 2015
- May 2015
- March 2015
- February 2015
- January 2015
- November 2014
- August 2014
- July 2014
- June 2014
- May 2014
- April 2014
- March 2014
- February 2014
- January 2014
- December 2013
- November 2013
- October 2013
- September 2013
- August 2013
- July 2013
- June 2013
- May 2013
- April 2013
- March 2013
- February 2013
- January 2013
- December 2012
- November 2012
- October 2012
- September 2012
- August 2012
- July 2012
- June 2012
- May 2012
- April 2012
- March 2012
- February 2012
- December 2011
- October 2011
- August 2011
- July 2011
- June 2011
- May 2011
- April 2011
- March 2011
- February 2011
- January 2011
- December 2010
- November 2010
- October 2010
- September 2010
- August 2010
- July 2010
- June 2010
- May 2010
- April 2010
- March 2010
- February 2010
- January 2010
- December 2009
Calendar
M | T | W | T | F | S | S |
---|---|---|---|---|---|---|
1 | 2 | |||||
3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 |
10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 |
17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 | 23 |
24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 |
31 |
Leave a Reply